Wallazeena aamanoo billaahi wa Rusulihee wa lam yufarriqoo baina ahadim minhum ulaaa`ika sawfa yu`teehim ujoorahum; wa kaanal laahu Ghafoorar Raheema
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و كسانى كه به خدا و پيامبرانش ايمان آوردهاند و ميان پيامبرانش جدايى نيفكندهاند پاداششان را خدا خواهد داد، و خدا آمرزنده و مهربان است.
آمَنُوا بِاللہِ وَرُسُلِہِ: اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔
لَمْ یُفَرِّقُوا: انہوں نے فرق نہیں کیا۔
أُجُورَہُمْ: ان کے اجر و ثواب۔
غَفُورًا رَّحِیمًا: بہت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان مومنین کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتی ہے جو ایمان کے کامل درجے پر فائز ہیں۔ ایسے لوگ جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، اور اللہ کے تمام رسولوں پر بلا کسی امتیاز کے ایمان لائے — چاہے وہ کوئی بھی رسول ہو، کسی بھی زمانے میں آیا ہو — انہوں نے کسی نبی کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی کسی ایک پر ایمان لا کر دوسرے کا انکار کیا، جیسا کہ اہل کتاب کا طرز عمل تھا۔ وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لاتے تھے لیکن عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرتے تھے، اور کچھ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے لیکن محمد ﷺ کا انکار کیا۔ مگر سچے مومن وہ ہیں جو تمام انبیاء و رسل کو حق مانتے ہیں، ان کی تعلیمات کو تسلیم کرتے ہیں، اور ان سب کو اللہ کے سچے بھیجے ہوئے پیغامبر جانتے ہیں۔
ایسے کامل ایمان والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ انہیں ان کا پورا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ یہ اجر صرف ایمان کا نہیں بلکہ ایمان سے پیدا ہونے والے اعمال صالحہ کا بھی ہے، جو ان کے ایمان کی برکت سے ان کے حصے میں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کی نیکیوں کو کئی گنا بڑھا دے گا اور ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے گا۔
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے دو خوبصورت صفات بیان فرماتا ہے: "غفور" اور "رحیم"۔ یعنی وہ اپنے بندوں کی لغزشوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔ یہ مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ان کا رب نہ صرف اجر دینے والا ہے بلکہ بخشنے اور رحم کرنے والا بھی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب ہم تمام انبیاء پر یکساں ایمان رکھیں اور کسی میں تفریق نہ کریں۔ ہمارے نبی محمد ﷺ سب سے افضل ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسرے انبیاء کی توہین کریں یا انہیں کم تر سمجھیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ تمام انبیاء سے محبت کرے، ان کی تعلیمات کا احترام کرے، اور ان سب کو اللہ کے برگزیدہ بندے جانے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اللہ کی رحمت اور مغفرت تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ اس طرح کامل ایمان رکھیں گے، وہ انہیں بے حساب اجر عطا فرمائے گا اور ان کی خطاؤں سے درگزر کرے گا۔ یہ اللہ کا عظیم فضل ہے جو وہ اپنے مخلص بندوں پر فرماتا ہے۔ آئیے ہم سب اس کامل ایمان کی طرف قدم بڑھائیں اور اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق بنیں۔
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔