yas`aluka Ahlul Kitaabi an tunazzila `alaihim Kitaabam minas samaaa`i faqad sa aloo Moosaa akbara min zaalika faqaaloo arinal laaha jahratan fa akhazat humus saa`iqatu bizulmihim; summat takhazul `ijla mim ba`di maa jaa`at humul baiyinaatu fa`afawnaa `ann zaalik; wa aatainaa Moosaa sultaanam mubeenaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اهل كتاب از تو مىخواهند كه برايشان كتابى از آسمان نازل كنى. اينان بزرگتر از اين را از موسى طلب كردند و گفتند: خدا را به آشكار به ما بنماى. به سبب اين سخن كفرآميزشان صاعقه آنان را فرو گرفت. و پس از آنكه معجزههايى برايشان آمده بود گوسالهاى را به خدايى گرفتند و ما آنان را بخشيديم و موسى را حجتى آشكار ارزانى داشتيم.
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ: کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کریں (جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الواح نازل ہوئے تھے)۔
جَهْرَةً: کھلم کھلا، آنکھوں سے دیکھ کر۔
الصَّاعِقَةُ: آسمانی بجلی یا عذاب کا آنا۔
الْبَيِّنَاتُ: واضح معجزات اور دلائل۔
سُلْطَانًا مُبِينًا: روشن اور واضح دلیل، معجزہ۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! اہل کتاب (یہود) آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے ایک کتاب نازل کریں جو یکبارگی نازل ہو، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الواح نازل ہوئے تھے۔ یہ مطالبہ دراصل ان کی ضد اور سرکشی ہے، کیونکہ وہ آپ کی صداقت کے لیے کوئی معجزہ طلب کر رہے ہیں، حالانکہ آپ کے پاس معجزات کا سلسلہ موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ ان کے اس مطالبے پر تعجب نہ کریں، کیونکہ ان کے آباء و اجداد نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: "ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو" یعنی ہم اللہ کو آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی جسارت اور ظلم تھا، جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر آسمانی بجلی بھیجی جو انہیں ہلاک کر گئی۔ یہ ان کے ظلم کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے ایسا سوال کیا جو ان کے شایانِ شان نہیں تھا۔
پھر اللہ نے انہیں زندہ کیا، اور ان کے پاس واضح معجزات آئے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے گوسالہ (بچھڑا) کو معبود بنا لیا۔ یہ ان کی ناشکری اور جہالت تھی کہ معجزات دیکھنے کے بعد بھی وہ شرک میں مبتلا ہو گئے۔ پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی اور انہیں معاف کر دیا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو واضح دلیل اور معجزہ عطا کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سبق دیتے ہیں کہ ہم اللہ سے اپنی عقل اور حدود کے مطابق سوال کریں، نہ کہ ضد اور سرکشی سے۔ اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا ہے، جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے، جیسے بنی اسرائیل کو معاف کیا گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب دی ہے جو ہمارے لیے ہدایت اور رحمت ہے، ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے اور اللہ کے فضل کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا
(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔