نساء · 154/176
ترجمہ تلفظ — سورہ نساء
وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا ۝١٥٤
Wa rafa`naa fawqahumut Toora bimeesaaqihim wa qulnaa lahumud khulul baaba sujjadanw wa qulnaa lahum laa ta`doo fis Sabti wa akhaznaa minhum meesaaqan ghaleezaa
📖 اردو ترجمہ
اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الطُّور: پہاڑ، خاص طور پر کوہِ طور۔
  • بِمِيثَاقِهِمْ: ان کے عہد و پیمان کی وجہ سے۔
  • سُجَّدًا: جھک کر، سجدہ کی حالت میں۔
  • لَا تَعْدُوا: حد سے تجاوز نہ کرو۔
  • مِيثَاقًا غَلِيظًا: سخت اور پختہ عہد۔

تفسیرِ آیہ:

اللہ تعالیٰ اپنے انعامات اور بنی اسرائیل کے ساتھ کیے گئے معاملات بیان فرما رہے ہیں۔ جب بنی اسرائیل نے تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا تھا، تو اللہ نے ان سے پختہ عہد لیا، لیکن جب وہ اس عہد پر قائم نہ رہ سکے اور عمل سے جی چرانے لگے، تو اللہ نے انہیں ڈرانے اور ان کے دلوں میں رعب ڈالنے کے لیے ان کے سروں پر کوہِ طور کو بلند کر دیا، گویا وہ پہاڑ ان پر گرنے والا ہے۔ یہ منظر اتنا خوفناک تھا کہ انہیں مجبوراً عہد کرنا پڑا۔

پھر اللہ نے انہیں حکم دیا کہ بیت المقدس کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے، عاجزی اور انکساری کے ساتھ داخل ہوں، لیکن انہوں نے حکم کی مخالفت کی اور پیچھے کی طرف گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور سجدہ کے بجائے سر اٹھا کر داخل ہوئے۔ یہ ان کی سرکشی اور نافرمانی کی علامت تھی۔

مزید برآں، اللہ نے انہیں ہفتے کے دن (سبت) میں مچھلیوں کے شکار سے منع کیا تھا، تاکہ وہ اس دن عبادت کریں اور دنیاوی مشاغل سے الگ رہیں۔ لیکن انہوں نے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کی اور حیلے بہانے کر کے شکار کرنے لگے، جس کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔

اللہ نے ان سے بہت سخت اور پختہ عہد لیا تھا کہ وہ تورات پر عمل کریں گے، لیکن انہوں نے ہر بار عہد شکنی کی اور اللہ کے احکام کو نظر انداز کیا۔ یہ سب کچھ اس لیے بیان کیا جا رہا ہے تاکہ امتِ محمدیہ کو سبق حاصل ہو کہ اللہ کے عہد کو مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سارے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ کا عہد بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ جب ہم اللہ سے وعدہ کرتے ہیں، تو اسے پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کبھی نہ کبھی سزا ضرور ملتی ہے، چاہے وہ کتنے ہی بڑے لوگ کیوں نہ ہوں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں، اس کی نافرمانی سے بچیں، اور اپنے عہد و پیمان کو مضبوطی سے نبھائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی تک پہنچا سکتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 152-156 — سورہ نساء

152وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
153يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
154وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا
اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا
155فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا
(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
156وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا
اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
154آیت

ترجمہ — نساء 154

سورہ نساء آیت 154 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر…

سورہ آیت 154/176 — سورہ نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ نساء سنیں, سورہ نساء ترجمہ, سورہ نساء mp3, سورہ نساء pdf. آیت 152–156. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Monday, September 7, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں