Rabbannaa wa adkhilhum Jannaati `adninil latee wa`attahum wa man salaha min aabaaa`ihim wa azwaajihim wa zurriyyaatihim; innaka Antal `Azeezul Hakeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اى پروردگار ما، آنان را و هر كه صالح باشد از پدران و همسران و فرزندانشان به بهشتهاى جاويدانى كه به آنها وعده دادهاى داخل كن، كه تو پيروزمند و حكيمى.
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَنَّاتِ عَدْنٍ: ہمیشہ رہنے والی جنتیں، جو قیامت کے دن دائمی قیام گاہ ہوں گی۔
وَعَدتَّهُمْ: جس کا آپ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔
صَلَحَ: نیک اور صالح ہو، ایمان اور عمل صالح کے ساتھ۔
آبَائِهِمْ: ان کے باپ دادا۔
أَزْوَاجِهِمْ: ان کی بیویاں۔
ذُرِّيَّاتِهِمْ: ان کی اولادیں۔
الْعَزِيزُ: غالب، جس کی قدرت کے آگے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔
الْحَكِيمُ: حکمت والا، جو ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔
تفسیر:
یہ دعا فرشتوں کی طرف سے اہل ایمان کے لیے ہے، جو عرش کے گرد طواف کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بخشش کی درخواست کرتے ہیں۔ اس آیت میں فرشتے اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ان مومن بندوں کو ان دائمی جنتوں میں داخل فرما، جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، اور ان کے ساتھ ان کے آباء و اجداد، ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے بھی ان لوگوں کو داخل فرما جو ایمان اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال ہوں۔ یہ اس لیے کہ مومنوں کی خوشی اور مسرت مکمل ہو جائے، کیونکہ جب اہل جنت اپنے پیاروں کو اپنے ساتھ جنت میں دیکھیں گے تو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی مزید بڑھ جائے گی۔
فرشتے اپنی دعا کے آخر میں یہ کہتے ہیں کہ اے رب! بے شک تو ہی غالب ہے، تیری قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، اور تو ہی حکیم ہے، جو ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ فرشتوں کا اعتراف ہے کہ اللہ کی قدرت کامل ہے اور اس کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہے، چاہے وہ جنت میں داخلہ ہو یا کسی اور معاملے میں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑی خوشخبری ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر فضل و کرم فرماتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ فرشتے خود مومنین کے لیے دعا کرتے ہیں، یہ کتنی بڑی سعادت ہے! ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان اور عمل صالح کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں، تاکہ ہم بھی ان مومنین میں شامل ہو سکیں جن کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں۔ نیز ہمیں اپنے والدین، بیویوں اور اولاد کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے، تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ جنت کی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ یاد رکھیں، جنت صرف انہیں ملے گی جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور اللہ کی رحمت اور فضل ہی اصل چیز ہے جو ہمیں اس عظیم انعام تک پہنچا سکتی ہے۔
جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔