اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَقِهِمُ: انہیں محفوظ رکھ، بچا لے۔
السَّیِّئَاتِ: برائیوں کے وبال، گناہوں کے نقصانات اور عذاب کے اسباب۔
تَقِ السَّیِّئَاتِ: جسے تو برائیوں سے بچا لے۔
یَوْمَئِذٍ: اس دن (قیامت کے دن)۔
الْفَوْزُ الْعَظِیمُ: بہت بڑی کامیابی، عظیم مراد۔
تفسیر:
اس آیت میں مومنین کی دعا کا ایک اور خوبصورت حصہ بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی زبان سے سکھاتا ہے کہ وہ یوں دعا کریں: "اے ہمارے رب! ہمیں برائیوں سے بچا لے۔" یعنی ہم سے جو کوتاہیاں اور گناہ سرزد ہوئے ہیں، ان کے برے انجام اور وبال سے ہمیں محفوظ فرما۔ یہ دعا دراصل عاجزی اور انکساری کا اظہار ہے کہ بندہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتا، بلکہ اللہ کی رحمت اور عفو کا طالب ہوتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جسے تو نے اس دن برائیوں سے بچا لیا، اس پر تو نے رحمت فرمائی۔" یعنی قیامت کے دن جب ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا، تو جو شخص عذاب اور سزا سے محفوظ رہے گا، یہ اللہ کی خاص رحمت ہوگی۔ یہ کوئی معمولی فضل نہیں، بلکہ سب سے بڑی نعمت ہے۔
آخر میں فرمایا: "اور یہی عظیم کامیابی ہے۔" دنیا کی کوئی کامیابی، کوئی دولت، کوئی شہرت اس کامیابی کے برابر نہیں ہو سکتی۔ جنت کا حصول، عذاب سے نجات، اور اللہ کی رضا — یہ سب کچھ اسی ایک چیز میں جمع ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، چاہے ہم کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں۔ اصل کامیابی اللہ کی رحمت سے ہے، نہ کہ صرف ہمارے اعمال سے۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی اور برے انجام سے حفاظت مانگیں۔ نیز یہ کہ آخرت کی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے، دنیا کی چیزیں عارضی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنے رب سے ہمیشہ اپنے گناہوں کی معافی اور برائیوں سے حفاظت کی درخواست کرتے رہیں۔ آمین۔
جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔