Wa maa tafarraqooo illaa mim ba`di maa jaaa`ahumul `ilmu baghyam bainahum; wa law laa Kalimatun sabaqat mir Rabbika ilaaa ajalim musammal laqudiya bainahum; wa innal lazeena oorisul Kitaaba mim ba`dihim lafee shakkim minhu mureeb
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از روى حسد و عداوت فرقه فرقه نشدند، مگر از آن پس كه به دانش دست يافتند. و اگر پروردگار تو از پيش مقرر نكرده بود كه آنها را تا زمانى معين مهلت است، بر آنها حكم عذاب مىرفت. و كسانى كه بعد از ايشان وارث كتاب خدا شدهاند درباره آن سخت به ترديد افتادهاند.
کَلِمَةٌ سَبَقَتْ: وہ فیصلہ جو اللہ کے علم میں پہلے سے طے ہو چکا ہے۔
أَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ وقت، یعنی قیامت کا دن۔
أُورِثُوا الْكِتَابَ: جنہیں کتاب (تورات و انجیل) وراثت میں دی گئی۔
مُرِيبٍ: شک جو دل کو مضطرب کر دے، بے چین کرنے والا شک۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہل کتاب اور مشرکین کے تفرقے کا ذکر فرما رہے ہیں۔ وہ لوگ جب حق ان کے پاس آ گیا اور انہیں علم ہو گیا کہ دینِ حق کیا ہے، تو انہوں نے اسے قبول نہیں کیا، بلکہ آپس کی ضد، حسد اور بغاوت کی وجہ سے الگ الگ گروہوں میں بٹ گئے۔ یہ تفرقہ جہالت کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ علم آنے کے بعد محض ظلم اور سرکشی کی بنا پر تھا۔ وہ جانتے بوجھتے ہوئے حق سے منہ موڑ گئے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی کہ عذاب ایک مقررہ وقت (قیامت) تک مؤخر ہے، تو ان کے درمیان فوراً فیصلہ کر دیا جاتا اور کافروں کو دنیا ہی میں عذاب دے کر حق و باطل کا فرق واضح کر دیا جاتا۔ لیکن اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو مہلت دیتا ہے، تاکہ جو ایمان لانے والے ہیں وہ ایمان لے آئیں اور جو انکار کرنے والے ہیں ان کے پاس حجت قائم ہو جائے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے جنہیں پہلے لوگوں کے بعد کتاب (تورات و انجیل) وراثت میں ملی، یعنی یہود و نصاریٰ جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں موجود تھے۔ وہ بھی اس قرآن اور آپ ﷺ کے بارے میں ایسے شک میں مبتلا ہیں جو ان کے دلوں کو بے چین کر رہا ہے۔ وہ نہ تو پوری طرح قبول کرتے ہیں اور نہ ہی پوری طرح رد کر سکتے ہیں، بلکہ تذبذب اور شک کی حالت میں ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ تفرقہ اور اختلاف ہمیشہ علم کے بعد پیدا ہوتا ہے، جب لوگ حق کو جان کر بھی اس پر عمل نہیں کرتے اور اپنی خواہشات اور بغض کی پیروی کرتے ہیں۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ حق کو قبول کرے، چاہے اسے کتنا ہی مشکل کیوں نہ لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن دیا ہے جو ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم آپس میں متحد رہیں، تفرقہ نہ ڈالیں۔ یاد رکھیں! اللہ کا وعدہ سچا ہے، قیامت کا دن آ کر رہے گا، اور اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ آئیے ہم سب مل کر قرآن و سنت کو اپنائیں اور اتحاد و اتفاق کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ تفرقہ اور انتشار ہی امت کی تباہی کا سبب ہے۔ اللہ ہمیں حق پر چلنے اور اس پر جمے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز سے واقف ہے
اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے۔ الله جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔