Falizaalika fad`u wastaqim kamaaa umirta wa laa tattabi` ahwaaa`ahum wa qul aamantu bimaaa anzalal laahu min Kitaab, wa umirtu li a`dila bainakum Allaahu Rabbunaa wa Rabbukum lanaaa a`maa lunaa wa lakum a`maalukim laa hujjata bainanaa wa baina kumul laahu yajma`u bainanaa wa ilaihil maseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
براى آن دعوت كن و چنان كه فرمان يافتهاى پايدارى ورز و از پى خواهشهايشان مرو و بگو: به كتابى كه خدا نازل كرده است ايمان دارم و به من فرمان دادهاند كه در ميان شما به عدالت رفتار كنم. خداى يكتا پروردگار ما و پروردگار شماست. اعمال ما از آن ما و اعمال شما از آن شما. ميان ما و شما هيچ محاجهاى نيست. خدا ما را در يك جا گرد مىآورد و سرانجام به سوى اوست.
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ: اسی دینِ مستقیم کی طرف بلاؤ۔
وَاسْتَقِمْ: ثابت قدم رہو۔
أَهْوَاءَهُمْ: ان کی خواہشاتِ نفسانی۔
لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ: حکم میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔
لَا حُجَّةَ: کوئی جھگڑا یا حجت نہیں۔
الْمَصِيرُ: لوٹنے کی جگہ۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! اسی دینِ حق کی طرف لوگوں کو دعوت دو جو اللہ نے تمام انبیاء کو دیا تھا، اور جس پر خود آپ قائم ہیں۔ آپ اسی پر ثابت قدم رہیں جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے، اور ان لوگوں کی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی نہ کریں جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور راہِ راست سے بھٹک گئے۔
آپ ان سے کہہ دیں: "میں ایمان لایا ہوں ہر اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے انبیاء پر نازل فرمائی، چاہے وہ تورات ہو، انجیل ہو، زبور ہو یا قرآن۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کروں۔ اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ جب حق واضح ہو گیا تو اب ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا باقی نہیں۔ اللہ قیامت کے دن ہم سب کو جمع کرے گا اور اپنے عدل سے فیصلہ فرمائے گا، اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔"
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوتِ دین کا راستہ صبر اور استقامت کا راستہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ حق پر قائم رہیں، چاہے مخالفین کی کتنی ہی مخالفت کیوں نہ ہو۔ نیز یہ آیت ہمیں عدل و انصاف کی تلقین کرتی ہے اور سکھاتی ہے کہ ہم اپنے مخالفین سے بھی حسنِ سلوک سے پیش آئیں، کیونکہ فیصلہ اللہ کے حوالے ہے۔ یہی توحید کا تقاضا ہے کہ ہم صرف اللہ سے ڈریں، صرف اسی کی عبادت کریں، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کو اتحاد اور اعتدال کی دعوت دیتی ہے۔
اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے۔ الله جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔