Wallazeena yuhaaajjoona fil laahi mim ba`di mastujeeba lahoo hujjatuhum daahidatun `inda Rabbihim wa `alaihim ghadabunw wa lahum `azaabun shadeed
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و كسانى كه درباره خدا جدال مىكنند، پس از آنكه دعوت او را اجابت كردهاند نزد پروردگارشان حجتشان ناچيز است. بر آنهاست خشم خدا و بر آنهاست عذابى سخت.
يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ: اللہ کے دین اور توحید کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، حق کو باطل کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسْتُجِيبَ لَهُ: لوگوں نے اس (دین) کو قبول کر لیا، ایمان لا کر اس کی دعوت پر لبیک کہی۔
دَاحِضَةٌ: باطل، ناکارہ، ایسی دلیل جو ٹھہر نہ سکے، جھوٹی اور بے بنیاد۔
عِندَ رَبِّهِمْ: اللہ کے نزدیک، اس کی نظر میں۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اسلام قبول کرنے کے بعد یا پھر جب لوگ بڑی تعداد میں حق کو قبول کر چکے تھے، تب بھی اللہ کے دین کے بارے میں جھگڑا کرتے رہے۔ وہ لوگ جو اللہ کی توحید اور اس کے دین کے بارے میں حجت بازی کرتے ہیں، اس کے بعد کہ لوگ ایمان لا چکے ہیں اور حق واضح ہو چکا ہے، ان کی حجت اللہ کے نزدیک بالکل باطل اور بے وزن ہے۔ جس طرح اندھیرے میں رکھی ہوئی چیز روشنی آنے کے بعد چھپ نہیں سکتی، اسی طرح حق کے ظاہر ہونے کے بعد باطل کی کوئی دلیل قائم نہیں رہ سکتی۔
ان مجادلین کا انجام بہت برا ہے: اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے کیونکہ وہ حق کو جان بوجھ کر رد کرتے ہیں، اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے جو جہنم کی آگ ہے۔ یہ عذاب اس لیے ہے کہ انہوں نے لوگوں کو راہِ حق سے روکنے کی کوشش کی اور ایمان لانے والوں کو گمراہ کرنے کی سعی کی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ جب حق واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے، ضد اور ہٹ دھرمی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مکمل کر دیا ہے، قرآن سامنے ہے، سنت رسول ﷺ موجود ہے، پھر بھی جو لوگ جھگڑا کرتے ہیں وہ صرف اپنے لیے عذاب کا سامان کرتے ہیں۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ حق سنتے ہی اسے قبول کر لے، کیونکہ حق کے سامنے سر جھکانا ہی کامیابی ہے۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق دے اور جھگڑے اور ضد سے بچائے۔ آمین۔
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔