ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- انتَصَرَ: بدلہ لینا، انتقام لینا
- ظُلْمِهِ: اس پر ظلم ہونے کے بعد
- سَبِیلٍ: الزام، مؤاخذہ، گرفت کا راستہ
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو حق دیا ہے کہ وہ ظلم ہونے کے بعد اپنا حق واپس لے سکتا ہے، چاہے وہ بدلہ لے کر ہی کیوں نہ ہو۔ جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو اور وہ اس ظلم کے بعد اپنے حق کے لیے کھڑا ہو جائے، اپنے ظالم سے انتقام لے، تو ایسے شخص پر کوئی الزام نہیں ہے، نہ اس پر کوئی گرفت ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
یہ آیت دراصل اسلامی نظامِ عدل کی خوبصورت تصویر پیش کرتی ہے۔ اسلام مظلوم کو چپ رہنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ اسے باوقار طریقے سے اپنا حق لینے کی ترغیب دیتا ہے۔ مظلوم کے لیے یہ ایک عظیم راحت اور طاقت کا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے اور اس کا حق ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
یاد رکھیں! یہ آیت ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جو ظلم کا شکار ہوں اور خاموشی سے برداشت کرتے رہیں۔ اسلام نے انہیں یہ حق دیا ہے کہ وہ عدل قائم کریں اور ظالم کو اس کے کیے کی سزا دیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ معاف کرنا اور درگزر کرنا افضل ہے، جیسا کہ آگے کی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جو صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کبھی ظلم برداشت نہیں کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے اور انتقام میں بھی حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر مظلوم کی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
📜 آیت 39-43 — شوری
ترجمہ — شوری 41
سورہ شوری آیت 41 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے…سورہ آیت 41/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 39–43. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








