یَبْغُونَ: ظلم کرتے ہیں، سرکشی اور زیادتی کرتے ہیں۔
بِغَیْرِ الْحَقِّ: ناحق، بغیر کسی جائز وجہ کے۔
عَذَابٌ أَلِیمٌ: دردناک اور تکلیف دہ عذاب۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں واضح فرما رہے ہیں کہ گرفت اور مؤاخذہ کا راستہ صرف انہی لوگوں کے خلاف ہے جو دوسرے انسانوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کے حقوق تلف کرتے ہیں، اور زمین میں ناحق فساد اور سرکشی پھیلاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں، لوگوں کو ان کی جائیداد، عزت یا جان سے محروم کرتے ہیں، اور اپنے تکبر اور بڑائی کے جذبے کی وجہ سے زمین پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان ظالموں کے لیے آخرت میں دردناک اور تکلیف دہ عذاب تیار ہے، جو ان کے ظلم اور سرکشی کا منہ بولتا ثبوت ہوگا۔ یہ عذاب ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ اسلام امن، انصاف اور رحمت کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو سختی سے منع کیا ہے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ انصاف پر قائم رہے، کسی پر ظلم نہ کرے، اور دوسروں کے حقوق کا پورا خیال رکھے۔ یاد رکھیں! ظلم کی کوئی صورت اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں، اور ظالم کو آخرت میں اپنے کیے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ لیکن جو لوگ توبہ کر لیں، اپنے ظلم سے باز آ جائیں اور اللہ کی رحمت کا سہارا لیں، اللہ انہیں معاف فرمانے والا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں ظلم کی کوئی گنجائش نہ ہو، اور محبت، انصاف اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔ یہی راستہ اللہ کی خوشنودی اور کامیابی کا ضامن ہے۔
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔