شوری · 40/53
ترجمہ تلفظ — شوری
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ۝٤٠
Wa jazaaa`u saiyi`atin saiyi`tum misluha faman `afaa wa aslaha fa ajruhoo `alal laah; innahoo laa yuhibbuz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سیئہ: برائی، بدی، ناانصافی یا ظلم۔
  • جزاء: بدلہ، سزا۔
  • مثلها: اس کے برابر، ویسی ہی۔
  • عفا: معاف کر دیا، درگزر کیا۔
  • أصلح: اصلاح کی، صلح کروائی، تعلقات بہتر کیے۔
  • أجر: ثواب، انعام۔
  • ظالمین: ظلم کرنے والے، زیادتی کرنے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں عدل اور احسان کے درمیان فرق واضح فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص پر کوئی زیادتی کی جائے اور وہ بدلہ لینا چاہے تو اسے یہ حق حاصل ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ بدلہ اسی کے برابر ہو، نہ اس سے زیادہ، نہ اس میں تجاوز کیا جائے۔ کسی کو نقصان پہنچانے والے کی سزا ویسی ہی ہو سکتی ہے جیسی اس نے کی، لیکن اس سے آگے بڑھنا یا ظلم کی حد تک پہنچنا جائز نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ اس سے بھی بلند مقام کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو شخص ظلم کو معاف کر دے اور درگزر کرتے ہوئے تعلقات کی اصلاح کر لے، یعنی دشمنی کو دوستی میں بدل دے، تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے اس عمل کو اپنے ذمے لے لیا۔ جب اللہ کسی کام کا اجر اپنے ذمے لے لے تو اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ وہ کتنا عظیم ہوگا۔

یہ آیت مسلمانوں کو سکھاتی ہے کہ بدلہ لینا جائز ہے، لیکن معاف کرنا افضل ہے۔ معاف کرنے والا دراصل اللہ کی محبت کا مستحق بنتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کو معاف کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ معاف کرنے سے دل سے کینہ اور بغض ختم ہوتا ہے، معاشرے میں محبت اور اخوت پیدا ہوتی ہے، اور انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ظالم وہ ہیں جو پہلے زیادتی کرتے ہیں، یا بدلہ لینے میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں کرتا بلکہ ان سے بیزار ہوتا ہے۔ یہ تنبیہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ نہ تو خود ظلم کرے اور نہ ہی ظلم کا بدلہ لیتے ہوئے ظالم بن جائے۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں امن و محبت قائم کریں، ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کریں، اور اگر کبھی بدلہ لینا پڑے تو انصاف کی حد تک رہیں۔ یاد رکھیں، معاف کرنے والے کا اجر اللہ کے پاس ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور رحمت کے قریب لے جاتا ہے۔ اللہ ہمیں معاف کرنے والا اور اصلاح کرنے والا بندہ بنائے۔ آمین۔



📜 آیت 38-42 — شوری

38وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
39وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
40وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
41وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
42إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا
شوریقرآن فہرست
53آیت
مکیRevelation
40آیت

ترجمہ — شوری 40

سورہ شوری آیت 40 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔…

سورہ آیت 40/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 38–42. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Wednesday, August 19, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں