شوری · 43/53
ترجمہ تلفظ — شوری
وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ۝٤٣
Wa laman sabara wa ghafara inna zaalika lamin `azmil umoor
📖 اردو ترجمہ
اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صَبَرَ: صبر کیا، برداشت کیا۔
  • غَفَرَ: معاف کیا، درگزر کیا۔
  • عَزْمِ الْأُمُورِ: ان امور سے جو مضبوط اور محکم ہیں، جن کا تعلق عزم و ہمت سے ہے۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی ایک اور خوبی بیان فرمائی ہے۔ جب کوئی شخص کسی کی طرف سے ایذا اور تکلیف پہنچے، اور وہ اس پر صبر کرے، بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی انتقام نہ لے، بلکہ درگزر اور معافی سے کام لے، تو یہ عمل انتہائی پسندیدہ اور اللہ کے نزدیک بہت محبوب ہے۔ یہ صبر اور معافی کسی کمزور کا فعل نہیں، بلکہ یہ انہی لوگوں کا شیوہ ہے جو بڑے حوصلے اور بلند ہمت کے مالک ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے بڑا اجر اور خوبصورت ثناء رکھی ہے۔

یہ صبر اور معافی نہ صرف انسان کے لیے ذاتی سکون کا باعث ہے، بلکہ معاشرے میں محبت، اخوت اور امن کا پیغام پھیلاتی ہے۔ جب انسان انتقام چھوڑ کر معافی اختیار کرتا ہے، تو دلوں میں موجود کینہ اور بغض ختم ہو جاتے ہیں، اور معاشرہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ بن جاتا ہے۔ یہ وہ عظیم کام ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی ہے، اور اسے "عزم الامور" یعنی مضبوط اور محکم امور میں شمار کیا ہے۔

یہ وہ صفت ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء اللہ کا شعار رہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس کا روشن نمونہ ہے۔ آپ نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، بلکہ ہمیشہ معافی اور درگزر سے کام لیا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں عزت بخشتا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ معافی اور درگزر کمزوری نہیں، بلکہ حقیقی طاقت ہے۔ جو شخص معاف کر دیتا ہے، وہ اللہ کی نظر میں بہت بلند مقام رکھتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں اس خوبی کو اپنائیں، اپنے مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور درگزر سے پیش آئیں، اور اللہ سے اس عظیم صفت کو اپنانے کی توفیق مانگیں۔ یاد رکھیں، جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں معاف کرے، اسی طرح ہمیں بھی اپنے بھائیوں کو معاف کرنا چاہیے۔ یہی ایمان کی پہچان ہے اور یہی راستہ جنت کی طرف لے جاتا ہے۔



📜 آیت 41-45 — شوری

41وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
42إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا
43وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں
44وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن وَلِيٍّ مِّن بَعْدِهِ ۗ وَتَرَى الظَّالِمِينَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَىٰ مَرَدٍّ مِّن سَبِيلٍ
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
45وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍ خَفِيٍّ ۗ وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُّقِيمٍ
اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور مومن لوگ کہیں کے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ دیکھو کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے
شوریقرآن فہرست
53آیت
مکیRevelation
43آیت

ترجمہ — شوری 43

سورہ شوری آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ…

سورہ آیت 43/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں