Wa mai yudlilil laahu famaa lahoo minw waliyyim mim ba`dih; wa taraz zaalimeena lammaa ra awul `azaaba yaqooloona hal ilaa maraddim min sabeel
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هر كس را كه خدا گمراه كند از آن پس هيچ دوستى نخواهد داشت. و ظالمان را مىبينى كه چون عذاب را بنگرند، مىگويند: آيا ما را راه بازگشتى هست؟
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُضْلِلِ اللہُ: اللہ جسے گمراہ کر دے (یعنی اس کی توفیقِ ہدایت سلب کر لے)
وَلِیّ: مددگار، رہنما، سرپرست
مَرَدّ: واپسی، پلٹنے کی جگہ (یعنی دنیا کی طرف لوٹنا)
سَبِیل: راستہ، کوئی ذریعہ
تفسیرِ آیہ:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک انتہائی اہم حقیقت بیان فرما رہے ہیں کہ جس شخص کو اللہ اُس کی اپنی سرکشی، ظلم اور ضد کی وجہ سے گمراہی میں چھوڑ دے، تو اُس کے بعد اُسے کوئی مددگار، ناصر اور رہنما نہیں مل سکتا جو اُسے راہِ راست دکھا سکے۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ جو بندہ حق کو ٹھکرا کر باطل پر چلنے پر اصرار کرتا ہے، اللہ اُس کی ہدایت کا دروازہ بند کر دیتا ہے، اور پھر کوئی طاقت اُسے راستے پر نہیں لا سکتی۔
پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے منظر کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ ظالم لوگ — جنہوں نے دنیا میں اللہ کے احکام کو ماننے سے انکار کیا، اپنے نفس پر ظلم کیا اور دوسروں پر ظلم ڈھایا — جب وہ عذابِ الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، تو پکار اٹھیں گے: "کیا ہمارے لیے واپسی کا کوئی راستہ ہے؟" وہ دنیا میں لوٹنا چاہیں گے تاکہ نیک اعمال کریں، ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت کریں۔ لیکن یہ خواہش محض حسرت اور پشیمانی کا اظہار ہوگی، اُن کی یہ التجا کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت اور سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کی اس مہلت میں موقع دیا ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنے ظلم سے باز آئیں اور اللہ کی رحمت کی طرف پلٹ آئیں۔ آج ہمارے پاس وہ موقع ہے جو قیامت کے دن ظالم نہیں پائیں گے۔ آج کا دن عمل کا دن ہے، حساب کا دن نہیں۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں قرآن اور سنت کی روشنی میں راہِ ہدایت عطا فرمائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں، اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں، اور اُس دن سے پہلے پہلے اپنے رب کی طرف رجوع کریں جب واپسی کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے، لیکن موت اور قیامت کے بعد پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں۔ آج ہی اللہ سے معافی مانگیں، آج ہی اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اپنے خالق و مالک کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں تاکہ ہم اُس عظیم دن کی رسوائی اور عذاب سے محفوظ رہیں۔
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور مومن لوگ کہیں کے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ دیکھو کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔