احقاف · 31/35
ترجمہ تلفظ — احقاف
يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ۝٣١
Yaa qawmanaaa ajeeboo daa`iyal laahi wa aaminoo bihee yaghfir lakum min zunoobikum wa yujirkum min `azaabin aleem
📖 اردو ترجمہ
اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • داعی اللہ: اللہ کی طرف بلانے والے، یعنی نبی کریم ﷺ۔
  • یُجِرْکُم: تمہیں محفوظ رکھے، پناہ دے۔
  • عَذَابٍ أَلِیم: دردناک اور تکلیف دہ عذاب۔

تفسیر:

اس آیت میں جنّات کے ایک گروہ کی زبان سے ان کی قوم کو پکارا جا رہا ہے، جو نبی کریم ﷺ کی تلاوتِ قرآن سن کر ایمان لے آئے تھے۔ وہ اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں: اے ہماری قوم! اللہ کے داعی (محمد ﷺ) کی دعوت کو قبول کرو، جو تمہیں حق اور سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں، اور اللہ پر ایمان لاؤ۔ اگر تم نے یہ کیا تو اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں اس دردناک عذاب سے بچا لے گا جو آخرت میں کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہاں "من ذنوبکم" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایمان لانے والوں کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، البتہ بندوں کے حقوق کا معاملہ اس سے الگ ہے، جسے ادا کرنا ضروری ہے۔ یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ایمان اور اطاعتِ رسول ﷺ گناہوں کی بخشش اور جہنم کے عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں دعوتِ ایمان کا سب سے خوبصورت انداز بیان ہوا ہے۔ جنّات خود ایمان لا کر اپنی قوم کو بلا رہے ہیں، یعنی جو شخص حق پا لیتا ہے وہ دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے گھر والوں، دوستوں اور معاشرے کو اللہ کے دین کی طرف بلائیں، کیونکہ یہی سب سے بڑی نیکی ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو اس کے داعی کی دعوت قبول کرے گا، اس کے گناہ معاف ہوں گے اور وہ عذاب سے محفوظ رہے گا۔ یہ وعدہ آج بھی ہر اس شخص کے لیے ہے جو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان لائے اور ان پر عمل کرے۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 29-33 — احقاف

29وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا ۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ
اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں
30قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ
کہنے لگے کہ اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا (دین) اور سیدھا رستہ بتاتی ہے
31يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا
32وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں
33أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں۔ وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے
احقافقرآن فہرست
35آیت
مکیRevelation
31آیت

ترجمہ — احقاف 31

سورہ احقاف آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول…

سورہ آیت 31/35 — احقاف الأحقاف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احقاف سنیں, احقاف ترجمہ, احقاف mp3, احقاف pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں