Innal-laaha yudkhilul lazeena aamanoo wa `amilus saalihaati Jannaatin tajree min tahtihal anhaaru wallazeena kafaroo yatamatta`oona wa yaakuloona kamaa taakuluian`aamu wan Naaru maswallahum
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خدا كسانى را كه ايمان آوردهاند و كارهاى شايسته مىكنند، به بهشتهايى كه نهرها در آن جارى است داخل خواهد كرد. ولى كافران از اين جهان متمتع مىشوند و چون چارپايان مىخورند و جايگاهشان آتش است.
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ: ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔
يَتَمَتَّعُونَ: وہ دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
الْأَنْعَامُ: چوپائے، جانور۔
مَثْوًى: ٹھکانہ، قیام گاہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان لوگوں کو، جنہوں نے ایمان لایا اور نیک اعمال کیے، ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یہ اللہ کا انعام ہے جو اس نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے۔ وہاں ان کی عزت و تکریم ہوگی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ان نعمتوں میں رہیں گے۔
اس کے برعکس، جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا، ان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا میں محض اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور صرف کھانے پینے اور نفسانی لذتوں میں مشغول رہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے چوپائے جانور صرف چرنے اور پیٹ بھرنے کے لیے جیتے ہیں۔ انہیں نہ آخرت کی فکر ہے، نہ اللہ کی نافرمانی کا کوئی خوف، نہ اپنے انجام کی کوئی پرواہ۔ ان کا مقصدِ زندگی صرف دنیاوی لذتیں اور شہوات ہیں۔ لیکن ان کی یہ عارضی لذتیں زیادہ دیر نہیں چلیں گی، آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہوگی، جو ان کا مستقل مسکن بنے گی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو راستے واضح کر دیے ہیں: ایک راستہ ایمان و عمل صالح کا ہے جو جنت کی نعمتوں تک پہنچاتا ہے، اور دوسرا راستہ کفر و غفلت کا ہے جو جہنم کی آگ پر ختم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ وہ چوپایوں کی طرح محض کھانے پینے میں نہ الجھ جائے، بلکہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھے اور اپنے خالق کی عبادت کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مختصر سی دنیا کی عارضی لذتوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اس ابدی نعمت کی طرف توجہ دیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی ہے۔ یاد رکھیں، یہ دنیا محض ایک امتحان گاہ ہے، اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بندوں میں شامل فرمائے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ آمین۔
کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی۔ اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور وقوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔