وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِالْهُدَىٰ: واضح اور روشن ہدایت کے ساتھ، یعنی قرآن اور ایمان۔
دِينِ الْحَقِّ: سچا دین، یعنی اسلام۔
لِيُظْهِرَهُ: تاکہ اسے غالب اور سربلند کرے۔
عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ: تمام ادیان (باطل مذاہب) پر۔
شَهِيدًا: گواہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اور انہیں دو عظیم چیزیں عطا فرمائیں: ایک ہدایت، جو کہ واضح اور روشن راہ دکھانے والی ہے، اور دوسری دین حق، جو کہ اسلام ہے۔ یہ دین حق تمام باطل مذاہب اور عقائد پر غالب اور فتح یاب ہو کر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر برتری عطا کرے گا، چاہے مشرکین اور مخالفین اسے ناپسند کریں۔ یہ غلبہ دو طرح سے ہوگا: ایک حجت اور دلیل کے ذریعے، جس سے باطل کا پردہ چاک ہوگا، اور دوسرا فتح و نصرت کے ذریعے، جس سے اسلام کا بول بالا ہوگا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس بات کا گواہ ہے کہ وہ آپ کی مدد کرے گا اور آپ کے دین کو سربلند کرے گا۔ اللہ کی گواہی سب سے بڑی اور سچی گواہی ہے، اس سے بڑھ کر کوئی تصدیق نہیں ہو سکتی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور اطمینان کا سامان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے دین کی سربلندی کا وعدہ کیا ہے، لہٰذا ہمیں اپنے دین پر پورا یقین اور اعتماد رکھنا چاہیے۔ چاہے دنیا میں مخالفین کتنا ہی شور مچائیں، اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ اپنے دین کو ضرور غالب کرے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے دین کی خدمت کریں، اور اس بات پر یقین رکھیں کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ یہ آیت ہمیں صبر، استقامت اور امید کا درس دیتی ہے کہ حق کی راہ پر چلنے والوں کو کبھی ناکامی نہیں ہوتی، اور اللہ کی گواہی ہمارے لیے سب سے بڑی ضمانت ہے۔
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے
بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔