Yaaa aiyuhal lazeena aamanoo shahaadatu bainikum izaa hadara ahadakumul mawtu heenal wasiyyatis naani zawaa `adlim minkum aw aakharaani min ghairikum in antum darabtum fil ardi fa asaabatkum museebatul mawt; tahbi soonahumaa mim ba`dis Salaati fa yuqsimaani billaahi inirtabtum laa nashtaree bihee samananw wa law kaana zaa qurbaa wa laa naktumu shahaadatal laahi innaaa izal laminal aasimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، چون مرگتان فرا رسد به هنگام وصيت دو عادل را از ميان خودتان به شهادت گيريد، يا از غير خودتان، هرگاه كه در سفر بوديد و مرگتان فرارسيد. اگر از آن دو در شك بوديد نگاهشان داريد تا بعد از نماز، آنگاه به خدا سوگند خورند كه اين شهادت را به هيچ قيمتى دگرگون نكنيم هرچند به سود خويشاوندمان باشد و آن را كتمان نكنيم، اگر جز اين باشد از گناهكارانيم.
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ: تمہارے درمیان گواہی، یعنی وصیت کے وقت گواہ بنانا۔
ذَوَا عَدْلٍ: دو عادل اور معتبر افراد۔
مِنْ غَيْرِكُمْ: تمہارے علاوہ، یعنی غیر مسلموں میں سے (جب مسلمان موجود نہ ہوں)۔
ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ: تم زمین میں سفر کرو۔
مُصِيبَةُ الْمَوْتِ: موت کی آفت، یعنی موت کا وقت قریب آجائے۔
تَحْبِسُونَهُمَا: تم ان دونوں کو روکو۔
إِنِ ارْتَبْتُمْ: اگر تمہیں ان کی گواہی پر شک ہو۔
لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا: ہم اس (اللہ کی قسم) کے بدلے کوئی دنیاوی قیمت حاصل نہیں کریں گے۔
ذَا قُرْبَى: قریبی رشتہ دار۔
الْآثِمِينَ: گنہگاروں میں سے۔
تفسیر:
اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آئے اور وہ وصیت کرنا چاہے، تو اس وقت دو عادل مسلمان گواہ بنائے جائیں۔ لیکن اگر تم سفر میں ہو اور وہاں مسلمان گواہ میسر نہ ہوں، تو پھر دو غیر مسلم گواہ بھی بنائے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی دیانت داری پر اعتماد ہو۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ وصیت کا حق ضائع نہ ہو اور ورثاء کے درمیان کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔
جب تمہیں ان گواہوں کی صداقت پر شک ہو، تو انہیں نماز (خاص طور پر عصر کی نماز) کے بعد روک کر اللہ کی قسم دلوائی جائے۔ اس وقت تمام لوگ اللہ کی عظمت کو محسوس کرتے ہیں اور جھوٹی قسم کھانے سے ڈرتے ہیں۔ وہ قسم اٹھائیں کہ ہم نے اپنی گواہی میں کوئی دنیاوی فائدہ حاصل نہیں کیا، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اور نہ ہی ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم ضرور گنہگاروں میں سے ہوں گے۔
یہ حکم اسلام کی عدل و انصاف کی اعلیٰ تعلیمات کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ معاشرے میں حق و انصاف قائم رہے، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ گواہی میں سچائی اور دیانت داری کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے، اور کسی بھی دنیاوی لالچ یا رشتہ داری کی محبت ہمیں حق چھپانے پر آمادہ نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے ہمیں آخرت کی فکر دلائی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ جو شخص جھوٹی قسم کھاتا ہے یا حق چھپاتا ہے، وہ اللہ کے غضب کا مستحق بنتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ سچ بولنے اور حق کی گواہی دینے کی عادت اپنائیں، کیونکہ یہی ایمان کی علامت ہے اور اللہ کی رحمت کا ذریعہ ہے۔
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)
اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں
اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔