Fa in `usira `alaaa annahumas tahaqqaaa isman fa aakharaani yaqoomaani maqaamahumaa minal lazeenas tahaqqa `alaihimul awlayaani fa yuqsimaani billaahi lashahaadatunaaa ahaqqu min shahaadatihimaaa wa ma`tadainaaa innaaa izal laminaz zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و هرگاه معلوم شود كه آن دو شاهد مرتكب گناه خيانت شدهاند، دو شاهد ديگر كه اولىتر از آن دو باشند جاى ايشان را بگيرند. آن دو به خدا قسم خورند كه شهادت ما از شهادت آن دو درستتر است و ما از حق تجاوز نكنيم، هرگاه چنين كنيم از ستمكاران باشيم.
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عُثِرَ: کسی چیز کا پتہ چلنا، کھوج لگانا، ظاہر ہو جانا۔
اسْتَحَقَّا إِثْمًا: دونوں نے ایسا کام کیا جس سے گناہ واجب ہوا، یعنی خیانت اور جھوٹی قسم کی وجہ سے گنہگار ہوئے۔
یَقُومَانِ مَقَامَهُمَا: دونوں کی جگہ کھڑے ہوں، یعنی ان کی جگہ گواہی یا قسم دیں۔
اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ: ان کے بارے میں حق ثابت ہوا، یعنی ان ورثاء کے متعلق گناہ ثابت ہوا۔
الْأَوْلَيَانِ: دو قریبی ترین رشتہ دار (میت کے وارث)۔
اعْتَدَيْنَا: ہم نے حد سے تجاوز کیا، ظلم کیا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے ایک اہم اصول کی وضاحت فرما رہے ہیں۔ جب کسی میت کی وصیت یا وراثت کے معاملے میں دو گواہ قسم اٹھائیں اور بعد میں ان کی خیانت یا جھوٹ ظاہر ہو جائے، یعنی معلوم ہو کہ ان دونوں نے جھوٹی قسم کھا کر یا غلط گواہی دے کر گناہ کا ارتکاب کیا ہے، تو اس صورت میں میت کے قریبی رشتہ داروں میں سے دو افراد کھڑے ہوں گے اور ان خائن گواہوں کی جگہ لے کر قسم اٹھائیں گے۔ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ "ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی اور حق ہے، ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی، اگر ہم نے جھوٹ بولا یا حق سے تجاوز کیا تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔"
یہ حکم اسلامی نظامِ عدل کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے کہ حق کو کسی بھی صورت میں دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر گواہ بھی خیانت کریں تو اللہ تعالیٰ نے اس کا حل نکال دیا کہ حق داروں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا حق ثابت کریں۔ اس میں عدل و انصاف کا پہلو انتہائی مضبوط ہے، اور یہ مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ حق کی حفاظت ہر حال میں ضروری ہے، چاہے کوئی بھی اس کے خلاف کھڑا ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام کا نظام عدل کس قدر مکمل اور جامع ہے۔ یہ صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ معاشرتی انصاف، امانت داری اور حق گوئی کا بھی دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر معاملے کا حل بیان فرمایا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے حقوق کو محفوظ رکھیں اور کسی کو ظلم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں سچائی اور امانت داری کو اپنائیں، کیونکہ جھوٹی قسم اور خیانت نہ صرف دنیا میں رسوائی کا سبب بنتی ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت عذاب کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر قائم رہنے اور ظلم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں
اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔