Yaaa aiyuhal lazeena aamanoo la yabluwannnakumul laahu bishai`im minas saidi tanaaluhooo aideekum wa rimaahukum liya`lamal laahu mai yakhaafuhoo bilghaib; famani` tadaa ba`da zaalika falahoo `azaabun aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، خدا شما را به صيدى كه به دست مىگيريد يا به نيزه شكار مىكنيد، مىآزمايد تا بداند چه كسى در نهان از او مىترسد. و هر كه از اين پس از حد تجاوز كند او راست عذابى دردآور.
مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
وَرِمَاحُكُمْ: اور تمہارے نیزے (بڑے جانوروں کے لیے)۔
بِالْغَيْبِ: بغیر دیکھے، غیبانہ طور پر (اللہ سے ڈرنا)۔
اعْتَدَىٰ: حد سے تجاوز کرنا (حالتِ احرام میں شکار کرنا)۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور اس چیز سے آزمائے گا جو شکار میں سے تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں آئے۔ یہ آزمائش اس لیے ہوگی کہ اللہ دیکھے کہ کون اس سے غیبانہ طور پر ڈرتا ہے، یعنی اس کے علم اور اس کی نگرانی پر کامل یقین رکھتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور حالتِ احرام میں شکار سے رک جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کی محبت اور خوف راسخ ہے۔
یاد رکھو، یہ آزمائش اس وقت ہوئی جب مسلمان حالتِ احرام میں تھے، اور جنگلی جانور ان کے قریب آتے تھے، یہاں تک کہ چھوٹے جانور ہاتھوں سے پکڑے جا سکتے تھے اور بڑے جانور نیزوں سے مارے جا سکتے تھے۔ اللہ نے یہ منظر اس لیے بنایا کہ لوگوں کا اصل حال ظاہر ہو جائے – کون اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور کون اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص اس واضح بیان کے بعد حد سے تجاوز کرے، یعنی حالتِ احرام میں شکار کرے، تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہ وعید اس لیے ہے کہ اس نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اپنے نفس کی خواہش کو اللہ کی اطاعت پر مقدم کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے! اللہ تعالیٰ ہمیں آزماتا ہے تاکہ ہمارا ایمان حقیقی ہو، صرف زبانی نہ ہو۔ جب ہم کسی گناہ کے موقع پر اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس سے بچتے ہیں، حالانکہ کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا، تو یہی تقویٰ ہے۔ اللہ ہر عمل کو دیکھتا ہے، ہر نیت کو جانتا ہے۔ اگر آج ہم اس کی اطاعت کریں گے، تو کل قیامت کے دن ہمیں اس کا اجر ملے گا۔ اللہ سے ڈرو، اس کی محبت کو اپنے دلوں میں بٹھاؤ، اور اس کے احکام پر عمل کرو – یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے
تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔