ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَذِکْرٰی: نصیحت اور عبرت کا سامان۔
- لِمَنْ کَانَ لَهُ قَلْبٌ: اس شخص کے لیے جس کے پاس سمجھنے والا دل ہو۔
- أَلْقَى السَّمْعَ: کان لگا کر سننا، توجہ سے سننا۔
- وَهُوَ شَهِیدٌ: اور وہ حاضر دل ہو، یعنی اس کا دل حاضر ہو، غافل نہ ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں پچھلی قوموں کے انجام کو یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کے حالات میں، ان کی تباہی اور عذاب میں، یقیناً بڑی عبرت اور نصیحت ہے۔ لیکن یہ عبرت صرف اسی کو ملے گی جس کے پاس "قلب" ہو، یعنی سمجھنے والا دل ہو جو حق کو قبول کرے، اور جو اپنی عقل سے کام لے۔ یا پھر وہ شخص جو اپنے کان لگا کر سنے، توجہ سے سنے، اور اس کا دل حاضر ہو، یعنی وہ غفلت اور لاپرواہی میں نہ ہو، بلکہ پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ سنے۔
یہاں "قلب" سے مراد عقل اور سمجھ ہے، کیونکہ قرآن نے دل کو علم اور فہم کا مرکز قرار دیا ہے۔ اور "شہید" کا مطلب ہے حاضر دل، یعنی جو شخص قرآن سنتے وقت اپنے دل کو حاضر رکھے، اس کی توجہ بٹی ہوئی نہ ہو، اور وہ غور و فکر کے ساتھ سنے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ قرآن سننے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم اسے توجہ سے سنیں، دل کو حاضر رکھیں، اور غور و فکر کریں۔ جو شخص اس طرح قرآن سنے گا، اس کے لیے یقیناً یہ باعثِ ہدایت اور نصیحت ہوگا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بہت اہم سبق دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے، لیکن اس ہدایت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے سمجھ کر پڑھیں اور سنیں۔ آج بہت سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں، لیکن دل غافل ہوتا ہے، اس لیے قرآن ان کی زندگیوں کو نہیں بدلتا۔ اگر ہم قرآن کو حاضر دل ہو کر سنیں، سمجھیں، اور اس پر عمل کریں، تو یہ ہمارے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، اس پر غور کریں، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ آمین۔
📜 آیت 35-39 — ق
ترجمہ — ق 37
سورہ ق آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ…سورہ آیت 37/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








