ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لُغُوب: تھکان، مشقت، نڈھال ہونے کا احساس۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور کامل حکمت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان موجود تمام مخلوقات کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ یہ چھ دن اس لیے تھے تاکہ مخلوقات کی تخلیق میں حکمت، ترتیب اور مصلحت قائم رہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ سب کچھ ایک ہی لمحے میں پیدا کر دیتا۔ لیکن اس نے حکمتِ الٰہی کے تحت اس عظیم کائنات کو مراحل میں تخلیق کیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس عظیم تخلیق کے باوجود ہمیں کوئی تھکان، مشقت یا نڈھال پن نہیں پہنچا۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے، وہ جب کسی چیز کو چاہتا ہے کہتا ہے "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے۔ اس کی ذات پر کوئی بوجھ نہیں آتا، نہ اسے آرام کی ضرورت ہے، جیسا کہ بعض لوگ (یہود) گمان کرتے ہیں کہ اللہ نے چھ دن میں دنیا بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔ یہ بالکل باطل اور غلط عقیدہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا ذکر ہے جو ہمارے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔ جب ہم اس کائنات کی وسعتوں، اس کے نظام اور اس کی خوبصورتی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ جس رب نے اتنی عظیم کائنات بغیر کسی مشقت کے پیدا کر دی، اس کے لیے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ یہی وہ دلیل ہے جو قیامت کے دن اور آخرت پر ایمان لانے میں ہماری مدد کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ منظر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے رب کی عبادت میں کوتاہی نہ کریں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اس کے سامنے عاجزی و انکساری کا رویہ اپنائیں۔ جس رب کی قدرت اتنی کامل ہے، اس کی اطاعت ہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ آئیے ہم اس عظیم خالق کو پہچانیں، اس کی عظمت کو دل سے محسوس کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے احکامات کے مطابق ڈھالیں۔
📜 آیت 36-40 — ق
ترجمہ — ق 38
سورہ ق آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات)…سورہ آیت 38/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








