ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آیت: عبرت اور نشانی۔
- یخافون: ڈرتے ہیں۔
- العذاب الالیم: دردناک اور تکلیف دہ عذاب۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی تباہی کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جب قومِ لوط نے اپنی شرمناک حرکتوں اور نافرمانیوں سے حد سے تجاوز کر دیا تو اللہ نے ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس نے ان کی بستی کو تہہ و بالا کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بستی میں ایک نشانی باقی رکھی، یعنی تباہی کے آثار جو آج بھی موجود ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت حاصل کریں۔
یہ نشانی صرف انہی لوگوں کے لیے مفید ہے جو اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس کے خوف سے گناہوں سے بچتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتا، وہ ان نشانیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا کہ عبرت حاصل کرنے کی توفیق صرف انہیں ملتی ہے جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جو قومیں اپنے پیغمبروں کو جھٹلاتی ہیں اور اللہ کی نافرمانی پر اصرار کرتی ہیں، ان کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ رحیم و کریم ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم ان نشانیوں سے سبق لیں اور اپنی زندگیاں سنوار لیں۔ آئیے ہم اپنے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کریں، کیونکہ یہی خوف ہمیں گناہوں سے بچائے گا اور جنت کی راہ دکھائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا ان قوموں کے انجام بیان کیے ہیں تاکہ ہم ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنی آخرت سنواریں۔ یاد رکھیں، دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے، اصل کامیابی آخرت میں ہے۔ اللہ ہمیں عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 35-39 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 37
سورہ ذاریات آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے…سورہ آیت 37/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








