ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سلطان مبین: واضح اور روشن دلیل، معجزہ اور حجت۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کو بطور عبرت پیش فرما رہے ہیں۔ جب اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا، تو انہیں ایسی واضح اور روشن دلیلیں اور معجزات عطا کیے جو کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتے تھے۔ یہ معجزات جیسے عصا کا سانپ بن جانا، ید بیضا (ہاتھ کا چمکنا)، اور دیگر نشانیاں، سب اس بات کے ثبوت تھے کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول ہیں۔
یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے عبرت کا باعث ہے جو اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ فرعون نے اپنی طاقت اور سلطنت کے گھمنڈ میں آکر ان واضح معجزات کو جھٹلایا اور کہا کہ موسیٰ ساحر یا مجنون ہے۔ لیکن انجام کار یہ ہوا کہ فرعون اور اس کے لشکر سمیت اللہ کے عذاب میں گرفتار ہو کر غرق ہو گئے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نشانیاں اور دلائل ہر دور میں واضح ہیں، لیکن جو لوگ تکبر اور غرور میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ انہیں دیکھ کر بھی اندھے رہتے ہیں۔ مومن کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں پر غور کرے، عبرت حاصل کرے، اور اپنے خالق کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ اپنے انبیاء کی مدد کرتا ہے اور انہیں ایسی قوت اور دلیل عطا کرتا ہے جو باطل کو شکست دیتی ہے۔ جو لوگ حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں، ان کا انجام فرعون جیسا ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو اللہ کی نشانیوں کے لیے کھلا رکھیں اور ان سے عبرت حاصل کریں۔
یہ آیت ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جو اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ وہی لوگ کامیاب ہیں، اور انہیں اللہ کی رحمت اور مغفرت حاصل ہوگی۔
📜 آیت 36-40 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 38
سورہ ذاریات آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب ہم…سورہ آیت 38/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








