نجم · 31/62
ترجمہ تلفظ — نجم
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى ۝٣١
Wa lillaahi maa fis samaawaati wa maa fil ardi liyajziyal lazeena asaaa`oo bimaa `amiloo wa yajziyal lazeena ahsanoo bilhusnaa
📖 اردو ترجمہ
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے یہ سب کچھ اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ برائی کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے، اور نیکی کرنے والوں کو بہترین جزا عطا فرمائے۔ برائی کرنے والوں کا انجام وہ عذاب ہے جو ان کے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہوگا، جبکہ نیکی کرنے والوں کے لیے جنت ہے، جو کہ بہترین انعام ہے۔

یہاں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام عدل پر قائم ہے۔ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دیتا ہے۔ جو لوگ برائی کرتے ہیں، انہیں ان کے برے اعمال کا پھل ملے گا، اور جو لوگ نیکی کرتے ہیں، انہیں جنت کی صورت میں بہترین صلہ دیا جائے گا۔

نیکی کرنے والے وہ لوگ ہیں جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، البتہ اگر کوئی چھوٹی سی لغزش سرزد ہو جائے جو معمولی ہو اور اس پر اصرار نہ کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اسے معاف فرما دیتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ کی مغفرت بہت وسیع ہے۔ وہ تمہارے حالات کو خوب جانتا ہے، چاہے وہ وقت ہو جب اس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا، یا وہ وقت جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی صورت میں تھے۔

لہٰذا اے انسانو! تم اپنی تعریف خود نہ کرو، نہ اپنے آپ کو پرہیزگار قرار دو، کیونکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حقیقت میں اس سے ڈرنے والا اور اس کے احکام کی پیروی کرنے والا کون ہے۔ وہی ہے جو ہر شخص کے دل کے راز سے واقف ہے اور اسی کے علم کے مطابق جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے، اور ہمیں ہمیشہ نیکی کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور جنت کے مستحق بن سکیں۔ اللہ کا نظام عدل کامل ہے، اور وہ کبھی کسی کا حق نہیں مارتا، اس لیے ہمیں اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔



📜 آیت 29-33 — نجم

29فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو
30ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ
ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا
31وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے
32الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
33أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا
نجمقرآن فہرست
62آیت
مکیRevelation
31آیت

ترجمہ — نجم 31

سورہ نجم آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین…

سورہ آیت 31/62 — نجم النجم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نجم سنیں, نجم ترجمہ, نجم mp3, نجم pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں