ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَلَمْ يَأْنِ: کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا؟
- تَخْشَعَ: نرم ہو، جھک جائے، اللہ کے خوف سے عاجز ہو جائے
- لِذِكْرِ اللَّهِ: اللہ کے ذکر پر، اللہ کی یاد سن کر
- وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ: اور اس حق (قرآن) پر جو نازل ہوا ہے
- فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ: پھر ان پر زمانہ لمبا ہو گیا (دور طویل گزر گیا)
- فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ: تو ان کے دل سخت ہو گئے
- فَاسِقُونَ: نافرمان، حکم عدولی کرنے والے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل ایمان سے ایک محبت بھرا سوال کر رہے ہیں، جو دراصل ایک شفیق باپ کی نصیحت ہے۔ فرمایا: "کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ایمان لانے والوں کے دل اللہ کے ذکر اور اس حق (قرآن) کے سامنے نرم اور جھک جائیں؟"
یہ ایک عتاب اور محبت بھرا خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ دل میں خشوع ہو، اللہ کا ذکر سن کر دل پگھل جائے، قرآن کی آیات سن کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور دل اللہ کے خوف سے لرز جائے۔ ایمان صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ دل کی نرمی اور اللہ کے سامنے عاجزی کا نام ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک سبق آموز مثال دیتے ہیں: "اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی (یہود و نصاریٰ)، پھر ان پر زمانہ لمبا ہو گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے بہت سے لوگ نافرمان ہو گئے۔"
یہاں اللہ تعالیٰ ہمیں پچھلی امتوں کے انجام سے خبردار کر رہے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کو اللہ نے تورات اور انجیل دی تھی، لیکن جب زمانہ گزرتا گیا، انہوں نے اپنے دین کو نظر انداز کیا، دنیا کی محبت ان کے دلوں میں گھر کر گئی، اور آہستہ آہستہ ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہو گئے۔ انہوں نے اللہ کے کلام کو بدل دیا، احکام کو پس پشت ڈال دیا، اور بہت سے لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل گئے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو ہمیشہ نرم رکھیں، قرآن سن کر متاثر ہوں، اللہ کے ذکر سے لذت حاصل کریں، اور کبھی بھی پچھلی امتوں کی طرح غفلت اور سخت دلی کا شکار نہ ہوں۔ یاد رکھیں، دل کی سختی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، اور دل کی نرمی ایمان کی مضبوطی کی دلیل ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمارے لیے ایک بیدار کرنے والی گھنٹی ہے۔ کیا ہم میں سے ہر ایک کو آج اپنے دل کا جائزہ نہیں لینا چاہیے؟ کیا ہمارے دل قرآن سن کر نرم ہوتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے ذکر سے لذت محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم نماز میں خشوع رکھتے ہیں؟ اگر نہیں، تو آج ہی توبہ کریں، اللہ کی طرف پلٹیں، اور اپنے دلوں کو اس کی یاد سے تازہ کریں۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، وہ اپنے بندوں کے دل کی پکار سنتا ہے۔ آج ہی اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے جوڑیں، قرآن کی تلاوت کریں، اور اپنے دل کو نرم کریں تاکہ ہم اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی۔ اللہ ہمیں خشوعِ قلب عطا فرمائے، آمین!
📜 آیت 14-18 — حدید
ترجمہ — حدید 16
سورہ حدید آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں…سورہ آیت 16/29 — حدید الحديد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حدید سنیں, حدید ترجمہ, حدید mp3, حدید pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Wednesday, August 19, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








