اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَأْسَاء: شدت، تنگی، فقر اور مصیبت۔
ضَرَّاء: جسمانی تکلیف، بیماری اور نقصان۔
یَتَضَرَّعُونَ: عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا کریں، گڑگڑائیں۔
تفسیرِ آیہ:
اے نبیِ مکرم! ہم نے آپ سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف اپنے رسول بھیجے، لیکن انہوں نے حق کو جھٹلایا اور اپنی سرکشی پر قائم رہے۔ تو ہم نے انہیں سختیوں، فاقوں، معاشی تنگیوں اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کیا، تاکہ ان کے دل نرم ہوں، وہ اپنے رب کے سامنے جھکیں، اپنی کمزوری کا اعتراف کریں اور عاجزی کے ساتھ گڑگڑا کر توبہ کریں۔ یہ ابتلا دراصل رحمت کا دروازہ تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے اور انہیں غفلت کی نیند سے جگانا چاہتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبتیں اللہ کی طرف سے ایک نصیحت اور واپسی کا راستہ ہیں۔ جب انسان اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے اور اپنی طاقت پر غرور کرتا ہے، تو اللہ اسے نرمی سے یا سختی سے اپنی طرف بلاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر تکلیف اور پریشانی میں فوراً اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اس کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ یہی وہ عاجزی ہے جو بندے کو رب کے قریب کرتی ہے اور اس کی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دیتی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے، اور مصیبت کے پردے میں بھی اس کی رحمت چھپی ہوتی ہے۔
بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔