Falaw laaa iz jaaa`ahum baasunaa tadarra`oo wa laakin qasat quloobuhum wa zaiyana lahumush Shaitaanu maa kaanoo ya`maloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس چرا هنگامى كه عذاب ما به آنها رسيد زارى نكردند؟ زيرا دلهايشان را قساوت فراگرفته و شيطان اعمالشان را در نظرشان آراسته بود.
تَضَرَّعُوا: عاجزی اور نیاز کے ساتھ گڑگڑائیں، اللہ کے سامنے جھک جائیں
قَسَتْ قُلُوبُهُمْ: ان کے دل سخت ہو گئے
زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ: شیطان نے ان کے لیے خوبصورت بنا دیا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں پچھلی امتوں کے حال سے سبق لینے کی تلقین فرما رہے ہیں۔ جب ان قوموں پر عذاب آیا، تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے سامنے جھک جاتے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتے، اور عاجزی کے ساتھ گڑگڑا کر توبہ کرتے۔ لیکن افسوس! انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کے دل تو سخت ہو چکے تھے، اور شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے شرک اور معاصی کو برا نہیں سمجھتے تھے۔
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ جب اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش یا مصیبت آئے، تو ہمیں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے، اور عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے گڑگڑانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان سے عذاب ٹال دیتا ہے۔ لیکن اگر دل سخت ہو جائیں اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر ہم اپنے گناہوں کو ہی اچھا سمجھنے لگیں، تو پھر ہلاکت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
پیارے بھائیو اور بہنو! آج ہم پر بھی مختلف قسم کی آزمائشیں آتی ہیں، لیکن کیا ہم ان میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں؟ کیا ہم عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ہمیں آج ہی اپنے حال کو بدلنا ہوگا۔ اللہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، وہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ آئیے، ہم اپنے دلوں کو نرم کریں، قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے اعمال کو پرکھیں، اور شیطان کے بہکاوے سے بچ کر اللہ کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔