انعام · 43/165
ترجمہ تلفظ — انعام
فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۝٤٣
Falaw laaa iz jaaa`ahum baasunaa tadarra`oo wa laakin qasat quloobuhum wa zaiyana lahumush Shaitaanu maa kaanoo ya`maloon
📖 اردو ترجمہ
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَأْسُنَا: ہمارا عذاب، ہماری گرفت
  • تَضَرَّعُوا: عاجزی اور نیاز کے ساتھ گڑگڑائیں، اللہ کے سامنے جھک جائیں
  • قَسَتْ قُلُوبُهُمْ: ان کے دل سخت ہو گئے
  • زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ: شیطان نے ان کے لیے خوبصورت بنا دیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں پچھلی امتوں کے حال سے سبق لینے کی تلقین فرما رہے ہیں۔ جب ان قوموں پر عذاب آیا، تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے سامنے جھک جاتے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتے، اور عاجزی کے ساتھ گڑگڑا کر توبہ کرتے۔ لیکن افسوس! انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کے دل تو سخت ہو چکے تھے، اور شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے شرک اور معاصی کو برا نہیں سمجھتے تھے۔

یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ جب اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش یا مصیبت آئے، تو ہمیں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے، اور عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے گڑگڑانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان سے عذاب ٹال دیتا ہے۔ لیکن اگر دل سخت ہو جائیں اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر ہم اپنے گناہوں کو ہی اچھا سمجھنے لگیں، تو پھر ہلاکت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پیارے بھائیو اور بہنو! آج ہم پر بھی مختلف قسم کی آزمائشیں آتی ہیں، لیکن کیا ہم ان میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں؟ کیا ہم عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ہمیں آج ہی اپنے حال کو بدلنا ہوگا۔ اللہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، وہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ آئیے، ہم اپنے دلوں کو نرم کریں، قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے اعمال کو پرکھیں، اور شیطان کے بہکاوے سے بچ کر اللہ کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 41-45 — انعام

41بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو
42وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُم بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں
43فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
44فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے
45فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
43آیت

ترجمہ — انعام 43

سورہ انعام آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں…

سورہ آیت 43/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں