Wa laqad ji`tumoonaa furaadaa kamaa khalaqnaakum awwala marratinw wa taraktum maa khawwalnaakum waraaa`a zuhoorikum wa maa naraa ma`akum shufa`aaa` akumul lazeena za`amtum annahum feekum shurakaaa`; laqat taqatta`a bainakum wa dalla `annkum maa kuntum taz`umoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هرآينه، تنها تنها، آن سان كه در آغاز شما را بيافريديم، نزد ما آمدهايد در حالى كه هر چه را كه ارزانيتان داشته بوديم پشت سر نهادهايد و هيچ يك از شفيعانتان را كه مىپنداشتيد با شما شريكند همراهتان نمىبينيم. از هم بريده شدهايد و پندار خود را گمگشته يافتهايد.
اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فُرَادَىٰ: اکیلا اکیلا، تنہا تنہا
خَوَّلْنَاكُمْ: جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا
شُفَعَاءَكُمُ: تمہارے سفارشی، تمہارے معبود
تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ: تمہارا آپس کا تعلق منقطع ہو گیا
ضَلَّ عَنكُم: تم سے گم ہو گیا، بے کار ہو گیا
تفسیر:
قیامت کے دن جب تمام انسان اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے تو اہلِ کفر سے کہا جائے گا: "تم ہمارے پاس بالکل اسی طرح اکیلے اکیلے آئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔" جس طرح ماں کے پیٹ سے کوئی مال و دولت، کوئی اولاد، کوئی جاہ و منصب ساتھ نہیں لاتا، اسی طرح آج تم اپنے رب کے سامنے ننگے اور تنہا کھڑے ہو۔ تم نے دنیا میں جو کچھ بھی کمایا تھا—مال، اولاد، عہدے، شہرت—سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے، اور وہ سب تمہارے کسی کام نہ آیا۔
پھر ان سے کہا جائے گا: "آج ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھ رہے جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا اور جن کے بارے میں تمہارا خیال تھا کہ وہ تمہاری سفارش کریں گے اور تمہیں عذاب سے بچا لیں گے۔" وہ بت، وہ مورتیاں، وہ اولیاء جنہیں تم نے اللہ کے برابر عبادت کے لائق سمجھا تھا—آج ان کا کوئی نشان تک نہیں۔ تمہارے اور ان کے درمیان جو تعلق تھا، وہ بالکل کٹ گیا، اور وہ سب کچھ جو تم گمان کیا کرتے تھے کہ وہ تمہارے کام آئیں گے، آج بالکل غائب اور بے کار ہو گیا۔
یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے، لیکن پھر پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو عقل، سمجھ اور اختیار دیا تاکہ وہ اپنے خالق کو پہچانے اور صرف اسی کی عبادت کرے۔ جو لوگ اس ہدایت سے محروم رہے اور غیر اللہ کی طرف متوجہ ہوئے، وہ قیامت کے دن اسی طرح تنہا اور بے کس ہوں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہم دنیا میں جو کچھ بھی جمع کرتے ہیں—دولت، عہدے، شہرت—یہ سب کچھ ایک دن پیچھے رہ جائے گا۔ اصل کامیابی تو یہ ہے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں، اس کی عبادت کریں، اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ کیونکہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد، نہ دوست، نہ سفارشی—صرف ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ آمین۔
اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے
اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے
بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو
وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔