اعراف · 145/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ ۝١٤٥
Wa katabnaa lahoo fil alwaahi minkulli shai`immaw `izaanw wa tafseelal likulli shai`in fakhuzhaa biquwwatinw waamur qawmaka yaakhuzoo bi ahsanihaa; wa ooreekum daaral faasiqeen
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْأَلْوَاحِ: تختیاں (تختے) جن پر توریت لکھی گئی تھی۔
  • مَوْعِظَةً: نصیحت، ڈرانے اور سمجھانے کے لیے۔
  • تَفْصِيلًا: ہر چیز کو کھول کر بیان کرنا۔
  • بِقُوَّةٍ: پوری جدوجہد اور مضبوطی سے۔
  • بِأَحْسَنِهَا: اس کے بہترین پہلوؤں کو اختیار کرنا۔
  • دَارَ الْفَاسِقِينَ: نافرمانوں کا گھر، یعنی جہنم یا تباہ شدہ بستیوں کا انجام۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توریت کی تختیاں عطا فرمائیں، جن میں ان کی قوم بنی اسرائیل کے لیے دین اور دنیا کے تمام ضروری احکام لکھے گئے تھے۔ یہ کتاب محض ایک ضابطہ قوانین نہ تھی، بلکہ اس میں نصیحت اور ڈرانے کا سامان بھی تھا تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں، اور ہر اس چیز کی تفصیل تھی جس کی انہیں اپنے دین اور معاشرتی معاملات میں ضرورت تھی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا کہ اس کتاب کو پوری قوت اور سنجیدگی سے پکڑو، یعنی اس پر عمل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کرو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کے بہترین احکام پر عمل کریں، جیسے معاف کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے، اور صبر کرنا انتقام سے افضل ہے۔ پھر اللہ نے متنبہ کیا کہ عنقریب تم دیکھو گے کہ نافرمانوں کا انجام کیا ہوتا ہے، چاہے وہ فرعون اور اس کی قوم ہو جو غرق ہو کر تباہ ہوئی، یا قیامت کے دن جہنم کی آگ جو ہر گنہگار کا ٹھکانہ ہوگی۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی کتاب کو سنجیدگی سے پکڑنا اور اس پر عمل کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ کو توریت دی گئی اور انہیں حکم ہوا کہ اسے مضبوطی سے تھامیں، اسی طرح ہمیں قرآن مجید کو اپنا دستور حیات بنانا چاہیے۔ قرآن میں بھی ہر وہ چیز موجود ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب کر سکتی ہے، اور اس کے بہترین احکام پر عمل کرنا ہی اصل ایمان کی علامت ہے۔ آئیے ہم اپنے معاشرے میں معاف کرنے، صبر کرنے اور نیکی کو فروغ دینے والے بنیں، تاکہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں اور اس کے عذاب سے محفوظ رہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور نافرمانوں کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے وہ دنیا میں دکھائی دے یا آخرت میں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 143-147 — اعراف

143وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَانِي وَلَٰكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
144قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
145وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
146سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
147وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
145آیت

ترجمہ — اعراف 145

سورہ اعراف آیت 145 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے…

سورہ آیت 145/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 143–147. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں