اعراف · 144/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ ۝١٤٤
Qaala yaa Moosaaa innis tafaituka `alan naasi bi Risaalaatee wa bi kalaamee fakhuz maaa aataituka wa kum minash shaakireen
📖 اردو ترجمہ
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اصطفیتُک: میں نے تجھے چن لیا، منتخب کیا۔
  • برسالاتی: اپنی پیغام رسانیوں کی وجہ سے۔
  • بکلامی: اپنے ہم کلام ہونے کی وجہ سے۔
  • فخذ: پس پکڑ لے، تھام لے۔
  • آتیتک: جو میں نے تجھے دیا۔
  • من الشاکرین: شکر گزار بندوں میں سے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خطاب فرما رہے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرفِ حضور حاصل ہوا اور انہوں نے اللہ سے عرض کیا کہ اے میرے رب! مجھے اپنے بھائی ہارون کو بھی مددگار بنائیں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عظیم بشارت دی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے موسیٰ! میں نے تجھے تمام لوگوں پر فضیلت دی ہے، دو خاص چیزوں کی وجہ سے: ایک میری رسالت، جو میں نے تجھے سونپی ہے تاکہ تو میرا پیغام میری مخلوق تک پہنچائے، اور دوسرا میرا کلام، جو میں نے تجھ سے بلا کسی واسطے کے کہا ہے۔ یہ وہ عظیم شرف ہے جو کسی اور نبی کو اس طرح حاصل نہیں ہوا تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے: فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ یعنی جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اسے مضبوطی سے تھام لے، اس پر عمل کر، اس کی حفاظت کر، اور اسے اپنے دل میں بسا لے۔ یہ حکم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی نعمتیں جتنی بڑی ہوں، ان کا تقاضا اتنا ہی بڑا ہوتا ہے کہ بندہ ان کی قدر کرے اور ان کے مطابق زندگی گزارے۔

آخر میں فرمایا: وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ یعنی شکر گزار بندوں میں سے ہو جا۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے الحمدللہ کہنا نہیں، بلکہ دل سے اللہ کی نعمت کو پہچاننا، زبان سے اس کا اعتراف کرنا، اور اعضاء سے اس کی اطاعت کرنا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سارے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی خاص رحمت سے نوازتا ہے، اور یہ انتخاب اللہ کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی نعمتیں جتنی بڑی ہوں، بندے کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ شکر کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے اور انہیں مزید نوازتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا: لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا۔

ہمیں بھی اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں کو پہچاننا چاہیے، ان کی قدر کرنی چاہیے، اور ان کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ سب سے بڑی نعمت ایمان اور قرآن ہے، جسے ہمیں مضبوطی سے تھامنا ہے اور اس پر عمل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 142-146 — اعراف

142۞ وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا
143وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَانِي وَلَٰكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
144قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
145وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
146سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
144آیت

ترجمہ — اعراف 144

سورہ اعراف آیت 144 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام…

سورہ آیت 144/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 142–146. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں