اعراف · 146/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ ۝١٤٦
Sa asrifu `an Aayaatiyal lazeena yatakabbaroona fil ardi bighairil haqq; wa iny-yaraw kulla Aayatil laa yu`minoo bihaa wa iny-yaraw sabeelar rushdi laa yattakhizoohu sabeelanw wa iny-yaraw sabeelal ghaiyi yatta khizoohu sabeelaa; zaalika bi annahum kazzaboo bi Aayaatinaa wa kaanoo `anhaa ghaafileen
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سَأَصْرِفُ: میں پھیر دوں گا، ہٹا دوں گا۔
  • آیَاتِیَ: میری نشانیاں، دلائل، حکم اور کتابیں۔
  • یَتَکَبَّرُونَ: تکبر کرتے ہیں، بڑائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
  • سَبِیلَ الرُّشْدِ: ہدایت اور بھلائی کا راستہ۔
  • سَبِیلَ الغَیِّ: گمراہی اور ضلالت کا راستہ۔
  • غَافِلِینَ: غفلت میں ڈوبے ہوئے، لاپرواہ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے عدل و حکمت کا ایک عظیم اصول بیان فرما رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں، اللہ کے حکموں سے سرتابی کرتے ہیں اور لوگوں پر برتری جتانے میں مبتلا ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں سے سمجھ اور ہدایت کی توفیق چھین لیتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک سزا ہے جو ان کے تکبر کی وجہ سے مقرر ہوتی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ ان متکبرین کی دو نمایاں صفات بیان فرماتے ہیں:

  1. وہ ہر نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے: چاہے ان کے سامنے کتنی ہی واضح دلیلیں اور معجزے پیش کیے جائیں، وہ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہوتی ہے۔
  2. وہ ہدایت کے راستے کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہی کا راستہ اپناتے ہیں: جب وہ سیدھا راستہ دیکھتے ہیں تو اسے اختیار نہیں کرتے، لیکن جب گمراہی اور ضلالت کا راستہ نظر آتا ہے تو اسے فوراً اپنا لیتے ہیں۔ یہ ان کی فطرت کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتی۔ انہوں نے اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر نہیں کیا، نہ انہیں سنجیدگی سے لیا، بلکہ انہیں جھٹلایا اور ان سے منہ موڑ لیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ تکبر اور غرور انسان کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ جو شخص اپنے علم، مال، حسن، نسب یا کسی بھی چیز پر تکبر کرتا ہے، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور اللہ کے سامنے جھک جاتے ہیں، انہیں اللہ کی ہدایت نصیب ہوتی ہے۔

یاد رکھیں! قرآن کریم کی آیات اور اللہ کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے دل کا خالص اور عاجز ہونا ضروری ہے۔ جب ہم اپنے دل کو تکبر سے پاک کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے گا اور ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے گا۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو صاف کریں، عاجزی اختیار کریں اور اللہ کی آیات پر غور و فکر کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 144-148 — اعراف

144قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
145وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
146سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
147وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا
148وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِن بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظَالِمِينَ
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
146آیت

ترجمہ — اعراف 146

سورہ اعراف آیت 146 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو…

سورہ آیت 146/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 144–148. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں