اعراف · 97/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ ۝٩٧
Afa amina ahlul quraaa ai yaatiyahum baasunaa bayaatanw wa hum naaa`imoon
📖 اردو ترجمہ
کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَفَأَمِنَ: کیا وہ ڈر سے محفوظ ہو گئے؟ یعنی کیا انہوں نے عذاب سے بے خوف ہو کر اسے دور سمجھ لیا؟
  • أَهْلُ الْقُرَىٰ: بستیوں والے، جن سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا۔
  • بَأْسُنَا: ہمارا عذاب، ہماری سخت پکڑ۔
  • بَيَاتًا: رات کے وقت، جب لوگ نیند میں ہوں۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے استفہام انکاری کے انداز میں پوچھ رہے ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ کی نشانیوں سے منہ موڑ لیا۔ کیا وہ لوگ جو بستیوں میں آباد ہیں اور اپنی طاقت و آسائش پر نازاں ہیں، کیا وہ اس بات سے بالکل بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر اللہ کا عذاب رات کے اندھیرے میں آ پڑے، جب وہ اپنے بستروں پر آرام سے سو رہے ہوں؟ یعنی عذاب اس طرح آئے کہ نہ کسی کو خبر ہو، نہ کسی کو بھاگنے کا موقع ملے، اور وہ اپنی نیند اور غفلت کی حالت میں ہی پکڑ لیے جائیں۔

یہ ایک شدید تنبیہ ہے کہ اے لوگو! تم اپنی عاقبت کے بارے میں اتنا مطمئن کیوں ہو؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ تم اللہ کی پکڑ سے بچ جاؤ گے؟ اللہ کا عذاب اچانک آتا ہے، جب انسان سب سے زیادہ بے خبر اور بے پروا ہوتا ہے۔ رات کی نیند میں انسان اپنی حفاظت کا مکمل احساس رکھتا ہے، لیکن اللہ کی گرفت جب آتی ہے تو وہ اس وقت آتی ہے جب انسان اپنے آپ کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔

یہ آیت ہر اس شخص کے لیے ایک زبردست نصیحت ہے جو اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتا ہے۔ شیطان انسان کو یہ وسوسہ دیتا ہے کہ تمہیں کچھ نہیں ہوگا، تم محفوظ ہو، لیکن یہ سراسر دھوکہ ہے۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، اور وہ اس وقت آتی ہے جب انسان اس کی توقع نہیں کرتا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم رات کو سونے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کریں، کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری نیند آخری نیند ہو یا نہیں۔ اللہ رحم کرنے والا ہے، لیکن وہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں، نماز قائم کریں، حقوق العباد ادا کریں، اور اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچائیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت قریب ہے۔ آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں اور اپنی زندگیوں کو سنوار لیں، تاکہ ہم اللہ کی پکڑ سے محفوظ رہیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔



📜 آیت 95-99 — اعراف

95ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
96وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا
97أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ
کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں
98أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں
99أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
97آیت

ترجمہ — اعراف 97

سورہ اعراف آیت 97 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ…

سورہ آیت 97/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 95–99. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں