ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَأْسُنَا: ہمارا عذاب، ہماری سخت گرفت۔
- ضُحًى: دن چڑھے، صبح کے وقت جب سورج بلند ہو جائے۔
- يَلْعَبُونَ: کھیل رہے ہوں، غفلت اور لاپرواہی میں مشغول ہوں۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے استفہام انکاری کے انداز میں پوچھ رہے ہیں جو پہلے عذاب سے ڈرتے نہیں تھے اور کہتے تھے کہ ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا بستیوں والوں کو اس بات سے کوئی ڈر نہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے یعنی اوقاتِ کار میں آ جائے، جب وہ اپنے کاروبار اور دنیاوی مشاغل میں کھیل کود اور غفلت میں مصروف ہوں؟ یعنی عذاب اس وقت آئے جب وہ بالکل بے خبر اور لاپرواہ ہوں، نہ کوئی تیاری ہو نہ کوئی احتیاط۔
اللہ تعالیٰ نے دن کے اس وقت کا خصوصی ذکر اس لیے فرمایا کہ انسان صبح کے وقت اور دن چڑھے سب سے زیادہ غفلت میں ہوتا ہے، اپنے کاموں میں لگا ہوا ہوتا ہے، اور عین اسی حالت میں عذاب کا آنا انتہائی ہولناک اور سخت ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی گرفت کبھی بھی آ سکتی ہے، چاہے انسان کسی بھی حالت میں ہو۔
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دنیاوی مشاغل اور کاروبار میں اس قدر غرق نہ ہوں کہ اللہ کی یاد اور اس کے عذاب سے غافل ہو جائیں۔ یاد رکھیں! اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، اور وہ کسی کو مہلت ضرور دیتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہر وقت توبہ اور استغفار کرتے رہیں، اور اللہ کے فضل و رحمت کے ساتھ ساتھ اس کے عذاب سے بھی ڈرتے رہیں، کیونکہ مومن وہی ہے جو خوف اور امید کے درمیان زندگی گزارے۔ اللہ ہمیں غفلت سے بچائے اور ہماری آخرت سنوارے۔ آمین۔
📜 آیت 96-100 — اعراف
ترجمہ — اعراف 98
سورہ اعراف آیت 98 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان…سورہ آیت 98/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 96–100. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








