ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نَذِيرًا: ڈرانے والا، خبردار کرنے والا، عذاب سے آگاہ کرنے والا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی آگ (دوزخ) کو انسانوں کے لیے ڈرانے والا قرار دیا ہے۔ یعنی یہ آگ کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ ایک عظیم ہولناک حقیقت ہے جو بنی نوع انسان کے لیے خبردار کرنے والی ہے۔ یہ تنبیہ اس لیے ہے تاکہ لوگ غفلت میں نہ رہیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور اللہ کی نافرمانی سے بچیں۔
یہ ڈرانا محض خوف دلانے کے لیے نہیں، بلکہ رحمت اور شفقت کا تقاضا ہے۔ جس طرح ایک محبت کرنے والا باپ اپنے بچے کو آگ کے خطرے سے آگاہ کرتا ہے، اسی طرح اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو جہنم کے عذاب سے خبردار کیا ہے تاکہ وہ راہِ راست اختیار کریں اور ہلاکت سے بچ جائیں۔
یہ نذیر (ڈرانے والا) صرف ایک خاص قوم یا زمانے کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے ہے—چاہے وہ کسی بھی نسل، رنگ، زبان یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہ ایک عالمگیر پیغام ہے جو قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے ہے۔
دعوتی پہلو:
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کمال رحمت فرمائی کہ انہیں عذاب سے ڈرایا، تاکہ وہ اپنی زندگی سنوار لیں اور آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔ یہ ڈرانا دراصل ایک عظیم نعمت ہے، کیونکہ جب انسان خطرے سے آگاہ ہو جاتا ہے تو وہ بچاؤ کے راستے تلاش کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن کا یہ انذار ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال پر نظر ثانی کریں، توبہ کریں اور اللہ کی رضا کے لیے عمل کریں۔
یاد رکھیں! یہ انذار محض خوف دلانے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ خوشخبری بھی ہے کہ جو لوگ اس ڈر سے سبق حاصل کریں گے، وہ جنت کی نعمتوں سے ہمکنار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس انذار کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی آخرت سنوار لیں۔ آمین۔
📜 آیت 34-38 — مدثر
ترجمہ — مدثر 36
سورہ مدثر آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور) بنی آدم کے لئے مؤجب خوفسورہ آیت 36/56 — مدثر المدثر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مدثر سنیں, مدثر ترجمہ, مدثر mp3, مدثر pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








