ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- غَرَّ: دھوکہ دینا، فریب دینا۔
- الْمُنَافِقُونَ: وہ لوگ جو ظاہر میں ایمان لائے لیکن دل میں کفر چھپائے ہوئے تھے۔
- الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ: وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور شک کا مرض تھا، یعنی کمزور ایمان والے۔
- عَزِيزٌ: غالب، طاقتور، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔
- حَكِيمٌ: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی سے کرے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب غزوہ بدر کے موقع پر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور شک کا مرض تھا، مسلمانوں کی قلت اور دشمنوں کی کثرت دیکھ کر کہہ رہے تھے: "ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ہے۔" ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان اپنے دین کے بھروسے پر اتنے کم تعداد اور کم اسلحہ کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے نکل آئے ہیں، حالانکہ دشمن تعداد اور اسلحے میں ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ دین انہیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: "اور جو شخص اللہ پر توکل کرے، تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔" یعنی جو شخص اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کرے اور اس کے وعدے پر یقین رکھے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ عزیز ہے یعنی غالب اور طاقتور ہے، کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا، اور وہ حکیم ہے یعنی ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مدد اس طرح کرتا ہے جو ان کے لیے بہتر ہو، چاہے ظاہری اسباب کم ہی کیوں نہ ہوں۔
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سکھا رہے ہیں کہ کامیابی کا دارومدار تعداد اور اسلحے پر نہیں، بلکہ اللہ پر توکل اور اس کی مدد پر ہے۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے اور اسے دشمنوں کے مقابلے میں کامیاب فرماتا ہے، چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ اور توکل ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ آج بھی جب مسلمان کمزور اور پریشان حال ہیں، تو ہمیں یہی راستہ اپنانا چاہیے۔ ہمیں اپنے دین پر فخر کرنا چاہیے اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے، چاہے دنیا والے ہم پر ہنسیں یا ہمیں کمزور سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں، اللہ کے احکام پر عمل کریں، اور اس پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیتا ہے، بشرطیکہ ہم سچے دل سے اس کی طرف رجوع کریں اور اس پر توکل کریں۔ اللہ عزیز ہے، وہ اپنے دوستوں کو ذلیل نہیں ہونے دیتا، اور وہ حکیم ہے، وہ ہر حال میں بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔
📜 آیت 47-51 — انفال
ترجمہ — انفال 49
سورہ آیت 49/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








