انفال · 49/75
ترجمہ تلفظ — انفال
إِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمۡۗ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ  ۝٤٩
Iz yaqoolul munaafiqoona wallazeena fee quloobihim maradun gharra haaa`ulaaa`i deenuhum; wa mai yatawakkal `alal laahi fa innal laaha `azee zun Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • غَرَّ: دھوکہ دینا، فریب دینا۔
  • الْمُنَافِقُونَ: وہ لوگ جو ظاہر میں ایمان لائے لیکن دل میں کفر چھپائے ہوئے تھے۔
  • الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ: وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور شک کا مرض تھا، یعنی کمزور ایمان والے۔
  • عَزِيزٌ: غالب، طاقتور، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔
  • حَكِيمٌ: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی سے کرے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب غزوہ بدر کے موقع پر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور شک کا مرض تھا، مسلمانوں کی قلت اور دشمنوں کی کثرت دیکھ کر کہہ رہے تھے: "ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ہے۔" ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان اپنے دین کے بھروسے پر اتنے کم تعداد اور کم اسلحہ کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے نکل آئے ہیں، حالانکہ دشمن تعداد اور اسلحے میں ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ دین انہیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: "اور جو شخص اللہ پر توکل کرے، تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔" یعنی جو شخص اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کرے اور اس کے وعدے پر یقین رکھے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ عزیز ہے یعنی غالب اور طاقتور ہے، کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا، اور وہ حکیم ہے یعنی ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مدد اس طرح کرتا ہے جو ان کے لیے بہتر ہو، چاہے ظاہری اسباب کم ہی کیوں نہ ہوں۔

یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سکھا رہے ہیں کہ کامیابی کا دارومدار تعداد اور اسلحے پر نہیں، بلکہ اللہ پر توکل اور اس کی مدد پر ہے۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے اور اسے دشمنوں کے مقابلے میں کامیاب فرماتا ہے، چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ اور توکل ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ آج بھی جب مسلمان کمزور اور پریشان حال ہیں، تو ہمیں یہی راستہ اپنانا چاہیے۔ ہمیں اپنے دین پر فخر کرنا چاہیے اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے، چاہے دنیا والے ہم پر ہنسیں یا ہمیں کمزور سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں، اللہ کے احکام پر عمل کریں، اور اس پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیتا ہے، بشرطیکہ ہم سچے دل سے اس کی طرف رجوع کریں اور اس پر توکل کریں۔ اللہ عزیز ہے، وہ اپنے دوستوں کو ذلیل نہیں ہونے دیتا، اور وہ حکیم ہے، وہ ہر حال میں بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 47-51 — انفال

47وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٌ 
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے
48وَإِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلۡيَوۡمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمۡۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلۡفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيٓءٌ مِّنكُمۡ إِنِّيٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوۡنَ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ 
اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
49إِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمۡۗ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
50وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ 
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو
51ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّٰمٍ لِّلۡعَبِيدِ 
یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا
انفالقرآن فہرست
75آیت
مدنیRevelation
49آیت

ترجمہ — انفال 49

سورہ آیت 49/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں