Wa law taraaa iz yatawaf fal lazeena kafarul malaaa`ikatu yadriboona wujoohahum wa adbaarahum wa zooqoo `azaabal hareeq
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر ببينى آن زمان را كه فرشتگان جان كافران مىستانند، و به صورت و پشتشان مىزنند و مىگويند: عذاب سوزان را بچشيد.
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَتَوَفَّى: روح قبض کرنا، موت دینا۔
يَضْرِبُونَ: مارتے ہیں، پیٹتے ہیں۔
وُجُوهَهُمْ: ان کے چہرے۔
أَدْبَارَهُمْ: ان کی پشتیں (پیٹھیں)۔
عَذَابَ الْحَرِيقِ: جلانے والا عذاب، آگ کا عذاب۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! اگر آپ اس منظر کو دیکھیں جب فرشتے کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں، تو آپ کو ایک انتہائی ہولناک اور عبرتناک منظر دیکھنے کو ملے۔ فرشتے ان کے چہروں پر مارتے ہیں جب وہ سامنے آتے ہیں، اور ان کی پشتوں پر مارتے ہیں جب وہ بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ کافر جب موت کے وقت ایمان سے منہ موڑتے ہیں اور حق سے فرار ہوتے ہیں، تو فرشتے انہیں اس طرح سزا دیتے ہیں۔ اور ان سے کہتے ہیں: "اب جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔" یہ عذاب صرف موت کے وقت کا نہیں، بلکہ یہ اس آگ کے عذاب کا پیش خیمہ ہے جو انہیں آخرت میں جہنم میں ملے گا۔
یہ آیت اگرچہ غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی تھی، لیکن اس کا حکم عام ہے اور ہر اس کافر پر صادق آتا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتا ہے۔ جس طرح بدر میں کافروں کو ذلت اور عذاب کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح ہر کافر کو موت کے وقت فرشتوں کی سختی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کفر و شرک کا انجام کتنا برا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس لیے اس نے ہمیں قرآن میں یہ مناظر دکھائے تاکہ ہم اپنی زندگی سنوار لیں اور اس راستے سے بچیں جو کافروں کا راستہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں تاکہ موت کے وقت فرشتے ہمارے ساتھ نرمی اور رحمت کا معاملہ کریں، نہ کہ سختی اور عذاب کا۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، لیکن آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جس نے اس دنیا میں اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے آخرت میں کامیابی ہے، اور جس نے نافرمانی کی، اس کے لیے وہی انجام ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو
جیسا حال فرعوینوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نےان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بےشک خدا زبردست اور سخت عذاب دینے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔