توبہ · 30/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ  ۝٣٠
Q qaalatil yahoodu `Uzairunib nul laahi wa qaalatin Nasaaral Maseehub nul laahi zaalika qawluhum bi afwaahihim yudaahi`oona qawlal lazeena kafaroo min qabl; qatalahumul laah; annaa yu`fakoon
📖 اردو ترجمہ
اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عُزَيْر: حضرت عزیر علیہ السلام، بنی اسرائیل کے نبی تھے۔
  • یُضَاہِئُونَ: مشابہت پیدا کرتے ہیں، نقل کرتے ہیں۔
  • قَاتَلَہُمُ اللہُ: اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ بددعا کا انداز ہے۔
  • أَنَّىٰ یُؤْفَکُونَ: کہاں سے وہ پھیرے جاتے ہیں، یعنی حق سے باطل کی طرف کیسے پھیر دیے جاتے ہیں۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے اس گمراہ کن عقیدے کا پردہ فاش کیا ہے جو انہوں نے اللہ کے بارے میں گھڑ رکھا ہے۔ یہود نے کہا کہ عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں گروہوں کے اس قول کو محض زبانی دعویٰ قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ صرف ان کے منہ کی بات ہے، جس کی کوئی دلیل نہیں، نہ کوئی برہان اور نہ کوئی سند۔ یہ محض ان کی اپنی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا یہ قول دراصل ان مشرکین کے قول سے ملتا جلتا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے تھے، جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تھا۔ گویا شرک کی یہی وہ پرانی روایت ہے جو زمانہ در زمانہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان پر لعنت بھیجتے ہوئے فرماتا ہے: "قاتلہم اللہ" یعنی اللہ انہیں ہلاک کرے، اور تعجب کا اظہار کرتا ہے کہ یہ لوگ حق کے واضح ہونے کے باوجود کیسے بھٹکائے جا رہے ہیں؟ سچائی ان کے سامنے موجود ہے، دلائل قائم ہیں، پھر بھی وہ اس سے منہ موڑ کر باطل کی طرف چلے جاتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرما دیا کہ "لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ" (وہ نہ جنتا ہے نہ جنتا ہے)۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو ان تمام شرکیہ عقائد سے پاک رکھیں اور اللہ کی توحید پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے انبیاء کے بارے میں غلو کیا اور انہیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا، حالانکہ انبیاء خود اللہ کے بندے اور اس کے برگزیدہ رسول تھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی حضرت محمد ﷺ اور تمام انبیاء سے محبت کریں، لیکن انہیں اللہ کے بندے اور رسول ہی کے درجے پر رکھیں، کیونکہ یہی توحید کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شرک سے بچائے اور توحید پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 28-32 — توبہ

28يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةً فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 
مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے
29قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعۡطُواْ ٱلۡجِزۡيَةَ عَن يَدٍ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ 
جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں
30وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ 
اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
31ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُوٓاْ إِلَٰهًا وَٰحِدًاۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ سُبۡحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشۡرِكُونَ 
انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
32يُرِيدُونَ أَن يُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَيَأۡبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ 
یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
30آیت

ترجمہ — توبہ 30

سورہ آیت 30/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں