Q qaalatil yahoodu `Uzairunib nul laahi wa qaalatin Nasaaral Maseehub nul laahi zaalika qawluhum bi afwaahihim yudaahi`oona qawlal lazeena kafaroo min qabl; qatalahumul laah; annaa yu`fakoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يهود گفتند كه عزير پسر خداست، و نصارى گفتند كه عيسى پسر خداست. اين سخن كه مىگويند همانند گفتار كسانى است كه پيش از اين كافر بودند. خدا بكشدشان. چگونه از حق منحرفشان مىكنند؟
اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عُزَيْر: حضرت عزیر علیہ السلام، بنی اسرائیل کے نبی تھے۔
یُضَاہِئُونَ: مشابہت پیدا کرتے ہیں، نقل کرتے ہیں۔
قَاتَلَہُمُ اللہُ: اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ بددعا کا انداز ہے۔
أَنَّىٰ یُؤْفَکُونَ: کہاں سے وہ پھیرے جاتے ہیں، یعنی حق سے باطل کی طرف کیسے پھیر دیے جاتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے اس گمراہ کن عقیدے کا پردہ فاش کیا ہے جو انہوں نے اللہ کے بارے میں گھڑ رکھا ہے۔ یہود نے کہا کہ عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں گروہوں کے اس قول کو محض زبانی دعویٰ قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ صرف ان کے منہ کی بات ہے، جس کی کوئی دلیل نہیں، نہ کوئی برہان اور نہ کوئی سند۔ یہ محض ان کی اپنی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا یہ قول دراصل ان مشرکین کے قول سے ملتا جلتا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے تھے، جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تھا۔ گویا شرک کی یہی وہ پرانی روایت ہے جو زمانہ در زمانہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان پر لعنت بھیجتے ہوئے فرماتا ہے: "قاتلہم اللہ" یعنی اللہ انہیں ہلاک کرے، اور تعجب کا اظہار کرتا ہے کہ یہ لوگ حق کے واضح ہونے کے باوجود کیسے بھٹکائے جا رہے ہیں؟ سچائی ان کے سامنے موجود ہے، دلائل قائم ہیں، پھر بھی وہ اس سے منہ موڑ کر باطل کی طرف چلے جاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرما دیا کہ "لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ" (وہ نہ جنتا ہے نہ جنتا ہے)۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو ان تمام شرکیہ عقائد سے پاک رکھیں اور اللہ کی توحید پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے انبیاء کے بارے میں غلو کیا اور انہیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا، حالانکہ انبیاء خود اللہ کے بندے اور اس کے برگزیدہ رسول تھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی حضرت محمد ﷺ اور تمام انبیاء سے محبت کریں، لیکن انہیں اللہ کے بندے اور رسول ہی کے درجے پر رکھیں، کیونکہ یہی توحید کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شرک سے بچائے اور توحید پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے
جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں
اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔