ترجمہ — Tafsir
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
لغوی معانی:
- أَحْبَارَهُمْ: ان کے علماء (یہود کے فقہاء اور علما)
- رُهْبَانَهُمْ: ان کے عابد و زاہد (نصاریٰ کے راہب)
- أَرْبَابًا: رب (مالک و معبود) بنایا
- مِّن دُونِ اللَّهِ: اللہ کو چھوڑ کر
- سُبْحَانَهُ: وہ پاک ہے
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے اس گمراہ کن رویے کی نشاندہی کرتی ہے جس نے انہیں شرک کی گہری وادی میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود نے اپنے علماء کو اور نصاریٰ نے اپنے راہبوں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔ یعنی انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ کے احکام کو اللہ کے احکام پر مقدم کر دیا، ان کی حلال و حرام کو شریعت کا درجہ دے دیا، اور جو کچھ انہوں نے حلال کہا اسے حلال اور جو حرام کہا اسے حرام مان لیا، چاہے وہ اللہ کے حکم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہی طاعتِ مطلقہ درحقیقت انہیں رب بنانے کے مترادف ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کا ایک اور بڑا شرک بیان فرمایا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھی اللہ کا شریک بنا لیا اور انہیں معبود مان لیا، حالانکہ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول تھے، نہ کہ خدا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سب کو حکم نہیں دیا گیا تھا مگر یہ کہ وہ صرف ایک معبودِ برحق کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہی واحد الٰہ ہے، اس کی ذات پاک ہے ان تمام شرک سے جو یہ مشرک لوگ کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک انتہائی اہم سبق ملتا ہے کہ توحید ہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت قائم تھی۔ آج بھی بہت سے مسلمان اپنے علماء، پیروں اور مشائخ کی اندھی تقلید کرتے ہوئے انہیں اللہ کا درجہ دے دیتے ہیں، ان کے قول کو اللہ کے حکم پر مقدم کرتے ہیں، اور ان سے ایسی چیزیں مانگتے ہیں جو صرف اللہ ہی دے سکتا ہے۔ یہ سب شرک کی اقسام میں داخل ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کو سب سے مقدم رکھیں، علماء سے استفادہ کریں لیکن ان کی بات کو کتاب و سنت پر پرکھیں، اور اپنی تمام عبادات اور دعائیں صرف اللہ ہی سے کریں۔ یاد رکھیں، جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنایا، اس کی محنت اور عبادت ضائع ہو جائے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک کو کبھی معاف نہیں فرماتا۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو شرک کی تمام اقسام سے پاک کریں اور خالص توحید پر قائم رہیں، یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور نجات تک پہنچائے گا۔
📜 آیت 29-33 — توبہ
ترجمہ — توبہ 31
سورہ آیت 31/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







