ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عُدَّة: سامان، تیاری، اسبابِ سفر اور جنگی ساز و سامان۔
- انبِعاث: اٹھ کھڑے ہونے کا جذبہ، نکلنے کا شوق اور تیزی سے روانہ ہونے کا ارادہ۔
- فَثَبَّطَهُمْ: اللہ نے انہیں سستی اور کاہلی میں ڈال دیا، ان کے دلوں میں خروج کی رغبت ختم کر دی۔
- الْقَاعِدِينَ: بیٹھ رہنے والے، یعنی وہ لوگ جو عذر کی بنا پر جہاد سے پیچھے رہ گئے ہیں جیسے بیمار، کمزور، عورتیں اور بچے۔
تفسیرِ آیات:
اے نبیِ کریم ﷺ! یہ منافقین اگر واقعی سچے دل سے آپ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہوتے تو وہ اس کی بھرپور تیاری کرتے، اپنے لیے اسلحہ، زادِ راہ اور سواری کا سامان مہیا کرتے، جیسا کہ سچے مجاہدین کا طریقہ ہوتا ہے۔ لیکن ان کے دلوں میں جہاد کی کوئی حقیقی خواہش نہ تھی، وہ محض دکھاوے کی باتیں کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے باطنی حال کو خوب جان لیا تھا کہ ان کا نکلنا مسلمانوں کے لیے نقصان کا باعث بنتا، اس لیے اللہ نے اپنی قضاء و قدر سے ان کے خروج کو ناپسند فرمایا اور ان کے دلوں میں سستی ڈال دی، یہاں تک کہ انہیں نکلنے کی طاقت ہی نہ رہی۔ پھر ان سے کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھ رہنے والوں (بیماروں، کمزوروں، عورتوں اور بچوں) کے ساتھ بیٹھے رہو، کیونکہ تمہارے نکلنے میں کوئی خیر نہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ کا یہ فعل (کَرِهَ اللَّهُ انبِعَاثَهُمْ) ان کے اختیار اور ان کی اپنی بری نیت کا نتیجہ تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ یہ ان کے دلوں کی کدورت اور نفاق کا ثمرہ تھا کہ اللہ نے انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا اور توفیقِ خیر ان سے سلب کر لی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے دل کا حال جانتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ ہماری نیت کیا ہے؟ کیا ہم صرف زبانی دعوے کرتے ہیں یا حقیقت میں اللہ کی راہ میں قربانی دینے کے لیے تیار ہیں؟ اگر ہمارے دل میں ایمان کی سچائی ہوگی تو اللہ ہمیں توفیق دے گا اور ہمارے کاموں میں برکت ڈالے گا۔ لیکن اگر ہم منافقانہ رویہ اپنائیں گے، تو اللہ ہمیں ذلت اور رسوائی میں مبتلا کر دے گا۔
پیارے بھائیو اور بہنو! آج بھی بہت سے لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم دین کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، ہم جہاد اور قربانی کے لیے تیار ہیں، لیکن جب موقع آتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، عذرا تراش کر بیٹھ رہتے ہیں۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ کو ہمارے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ ہماری نیتوں کا بھی علم ہے۔ وہی کامیاب ہے جو اپنے قول اور فعل میں سچا ہو، اور وہی ناکام ہے جو صرف دکھاوے کے لیے باتیں کرے۔
اللہ ہمیں سچی نیت اور خالص عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اپنے ایمان میں سچے ہیں اور اپنے رب کی راہ میں حقیقی قربانی دینے والے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 44-48 — توبہ
ترجمہ — توبہ 46
سورہ آیت 46/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







