اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَسْتَأْذِنُكَ: آپ سے اجازت مانگتے ہیں (یعنی جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت)۔
وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ: ان کے دلوں میں شک پیدا ہو گیا۔
يَتَرَدَّدُونَ: حیران و پریشان ہو کر ڈانواں ڈول ہیں، نہ یہاں کے رہے نہ وہاں کے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کا پردہ فاش کیا ہے جو جہاد سے بھاگنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ آپ سے جہاد سے معافی کی درخواست کرتے ہیں، وہ درحقیقت وہی ہیں جو اللہ پر اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں دینِ حق کے بارے میں شک و شبہ پیدا ہو چکا ہے، اور وہ اسی شک و تردد میں بھٹک رہے ہیں۔ ان کا ایمان قلبی نہیں بلکہ صرف زبانی ہے، اس لیے جب جہاد جیسی جانفشانی اور قربانی کا موقع آتا ہے تو وہ اس سے جی چراتے ہیں اور بہانے تراشتے ہیں۔
یہ لوگ حقیقی مومن نہیں ہیں، کیونکہ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی کام کا حکم دیں تو وہ فوراً لبیک کہتے ہیں، چاہے وہ کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ لیکن یہ منافق لوگ ہمیشہ شک اور تردد کا شکار رہتے ہیں، نہ ان کا دل ایمان پر مضبوط ہوتا ہے اور نہ ہی وہ عمل صالح پر قائم رہ پاتے ہیں۔ ان کی یہ کیفیت ان کے نفاق کا واضح ثبوت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ دل کا یقین اور عمل کی پابندی ہے۔ جو لوگ اپنے ایمان میں سچے ہوتے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کیا گیا مال اور جان کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شکوک و شبہات سے بچائے اور ہمارے دلوں کو ایمان کے یقین پر مضبوط کرے۔ یاد رکھیں، جہاد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اپنے نفس کے خلاف جہاد، علم حاصل کرنا، اور برائیوں سے روکنا بھی جہاد ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کی راہ میں اپنا مال، وقت اور جان سب کچھ پیش کرنے کے لیے تیار رہیں، تاکہ ہم سچے مومنوں میں شمار ہوں۔
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے
اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے ان کا اُٹھنا (اور نکلنا) پسند نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے ہی نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو
اگر وہ تم میں (شامل ہوکر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے اور تم میں ان کے جاسوس بھی ہیں اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔