ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قُرُبَاتٍ: قرب حاصل کرنے کے ذرائع، یعنی ایسے اعمال جن سے بندہ اللہ کا قرب حاصل کرے۔
- صَلَوَاتِ الرَّسُولِ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں۔
تفسیر آیت:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دیہاتی عربوں (اعراب) میں سے ایک اور گروہ کا ذکر فرمایا ہے جو ایمان اور نیک عمل میں نمایاں تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے، اس کی وحدانیت کے قائل تھے، اور آخرت کے دن، حساب و کتاب، جنت و جہنم پر یقین کامل رکھتے تھے۔ ان کا ایمان محض زبانی دعویٰ نہیں تھا بلکہ ان کے اعمال اس کی تصدیق کرتے تھے۔
یہ مخلص مومنین اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے، لیکن ان کا مقصد صرف یہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایک نیک کام کر رہے ہیں، بلکہ وہ اس خرچ کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بناتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ مال اللہ کی بارگاہ میں ان کے لیے قربت کا وسیلہ بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے بھی طالب تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ان کے لیے برکت اور بخشش کا ذریعہ بنے گی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جذبۂ اخلاص کی تصدیق فرمائی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کا یہ مال خرچ کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا حصول واقعی ان کے لیے قربت کا ذریعہ ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے ایمان اور نیت کی سچائی کی گواہی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشخبری سنائی کہ وہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یعنی انہیں بخشے گا اور اپنی جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ وعدہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے رحمت کی وسعت کا اظہار ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرماتا ہے کہ وہ غفور ہے یعنی اپنے بندوں کے گناہوں کو بخشنے والا ہے، اور رحیم ہے یعنی اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ یہ صفات اس بات کی ضمانت ہیں کہ جو بندہ سچے دل سے ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اسے ضرور بخشے گا اور اپنی رحمت سے نوازے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کے ظاہری حال یا مقام کی بنیاد پر اس کی قدر نہیں کرتا، بلکہ اس کے ایمان اور اخلاص کو دیکھتا ہے۔ دیہاتی لوگ جنہیں بعض اوقات کم سمجھا جاتا ہے، وہ بھی اللہ کے نزدیک بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں اگر ان کا ایمان سچا ہو اور اعمال نیک ہوں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر نیک عمل کو اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا چاہیے، نہ کہ دکھاوے یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ان کی دعاؤں کے طالب رہنا بھی ایمان کی نشانی ہے۔
آج ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا ذریعہ ان کی سنت پر عمل کرنا اور ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنا ہے۔ جو شخص سنت پر عمل کرے گا، وہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا مستحق بنے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان مخلص مومنین کی صفات عطا فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 97-101 — توبہ
ترجمہ — توبہ 99
سورہ توبہ آیت 99 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز…سورہ آیت 99/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 97–101. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







