توبہ · 98/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ  ۝٩٨
Wa minal A`raabi mai yattakhizu maa yunfiqu maghramanw wa yatarabbasu bikumud dawaaa`ir; alaihim daaa`iratus saw`; wallaahu Samee`un `Aleem
📖 اردو ترجمہ
اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مَغْرَمًا: نقصان، خسارة، تاوان۔
  • یَتَرَبَّصُ: انتظار کرنا، تاک میں رہنا۔
  • الدَّوَائِرَ: زمانے کی گردشیں، مصیبتیں اور آفتیں۔
  • دَائِرَةُ السَّوْءِ: بری گردش، برائی اور عذاب کا پھیرا۔

تفسیرِ آیات:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اعراب (دیہاتی بدوؤں) کے ایک گروہ کا ذکر فرمایا ہے جو منافق تھے۔ یہ لوگ جو کچھ بھی راہِ خدا میں خرچ کرتے تھے، اسے محض تاوان اور نقصان سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس خرچ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، نہ ہی یہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچائے گا۔ وہ محض دکھاوے اور خوف کی وجہ سے کبھی کبھار کچھ دے دیتے تھے، لیکن دل میں اسے گھاٹے کا سودا سمجھتے تھے۔

یہ منافق اعراب مسلمانوں کے بارے میں برے وقت کا انتظار کرتے تھے۔ وہ دعاگو تھے کہ کاش مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے، کوئی آفت نازل ہو، زمانے کا پہیہ الٹ جائے اور کفر پھر سے غالب آجائے تاکہ وہ ان سے چھٹکارا پا سکیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ جو برائی وہ مسلمانوں کے لیے چاہتے ہیں، وہ دراصل انہیں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ برائی کا پھیرا انہیں پر پڑے گا، مسلمانوں پر نہیں۔ جو مصیبت وہ تمہارے لیے چاہتے ہیں، وہ خود انہیں کے حصے میں آئے گی۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں اپنی دو صفات بیان فرمائیں: سمیع یعنی وہ سب کچھ سننے والا ہے جو یہ منافق اپنے دلوں میں چھپا کر زبان سے نکالتے ہیں، اور علیم یعنی وہ ان کے دلوں کے بھیدوں اور نیتوں کی خرابی سے خوب واقف ہے۔ کوئی بات، کوئی چھپی ہوئی نیت، کوئی سازش اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو نقصان نہ سمجھے، بلکہ یہ جانے کہ یہ تجارت ہے جو اللہ کے ساتھ ہوتی ہے، اور اللہ کبھی کسی کا حق ضائع نہیں کرتا۔ جو شخص اپنا مال اللہ کی راہ میں دیتا ہے، وہ دراصل اپنے لیے ذخیرہ کرتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خرچ کرو گے، اس کا بدلہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں کبھی کسی کے لیے برائی کی دعا نہیں کرنی چاہیے، خاص کر اپنے بھائیوں کے لیے تو ہرگز نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے سکھایا ہے کہ جس نے کسی کے لیے برائی کی دعا کی، وہ برائی پہلے خود اس پر آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسلمانوں کے لیے خیر اور بھلائی کی دعا کریں، ان کی کامیابی چاہیں، اور ان کے دکھوں میں شریک ہوں۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا اور سنتا ہے۔ ہماری چھپی ہوئی نیتیں، ہمارے دل کے ارادے، سب اس پر عیاں ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے، اپنی نیتوں کو درست کرنا چاہیے، اور ہر عمل میں اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی حفاظت کرتا ہے، اور ان کے دشمنوں کی سازشیں خود انہی پر الٹ دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 96-100 — توبہ

96يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ لِتَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡۖ فَإِن تَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرۡضَىٰ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ 
یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا
97ٱلۡأَعۡرَابُ أَشَدُّ كُفۡرًا وَنِفَاقًا وَأَجۡدَرُ أَلَّا يَعۡلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 
دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
98وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
99وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرۡبَةٌ لَّهُمۡۚ سَيُدۡخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 
اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
100وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٍ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٍ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ 
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
98آیت

ترجمہ — توبہ 98

سورہ آیت 98/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 96–100. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں