ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَغْرَمًا: نقصان، خسارة، تاوان۔
- یَتَرَبَّصُ: انتظار کرنا، تاک میں رہنا۔
- الدَّوَائِرَ: زمانے کی گردشیں، مصیبتیں اور آفتیں۔
- دَائِرَةُ السَّوْءِ: بری گردش، برائی اور عذاب کا پھیرا۔
تفسیرِ آیات:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اعراب (دیہاتی بدوؤں) کے ایک گروہ کا ذکر فرمایا ہے جو منافق تھے۔ یہ لوگ جو کچھ بھی راہِ خدا میں خرچ کرتے تھے، اسے محض تاوان اور نقصان سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس خرچ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، نہ ہی یہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچائے گا۔ وہ محض دکھاوے اور خوف کی وجہ سے کبھی کبھار کچھ دے دیتے تھے، لیکن دل میں اسے گھاٹے کا سودا سمجھتے تھے۔
یہ منافق اعراب مسلمانوں کے بارے میں برے وقت کا انتظار کرتے تھے۔ وہ دعاگو تھے کہ کاش مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے، کوئی آفت نازل ہو، زمانے کا پہیہ الٹ جائے اور کفر پھر سے غالب آجائے تاکہ وہ ان سے چھٹکارا پا سکیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ جو برائی وہ مسلمانوں کے لیے چاہتے ہیں، وہ دراصل انہیں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ برائی کا پھیرا انہیں پر پڑے گا، مسلمانوں پر نہیں۔ جو مصیبت وہ تمہارے لیے چاہتے ہیں، وہ خود انہیں کے حصے میں آئے گی۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں اپنی دو صفات بیان فرمائیں: سمیع یعنی وہ سب کچھ سننے والا ہے جو یہ منافق اپنے دلوں میں چھپا کر زبان سے نکالتے ہیں، اور علیم یعنی وہ ان کے دلوں کے بھیدوں اور نیتوں کی خرابی سے خوب واقف ہے۔ کوئی بات، کوئی چھپی ہوئی نیت، کوئی سازش اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو نقصان نہ سمجھے، بلکہ یہ جانے کہ یہ تجارت ہے جو اللہ کے ساتھ ہوتی ہے، اور اللہ کبھی کسی کا حق ضائع نہیں کرتا۔ جو شخص اپنا مال اللہ کی راہ میں دیتا ہے، وہ دراصل اپنے لیے ذخیرہ کرتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خرچ کرو گے، اس کا بدلہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں کبھی کسی کے لیے برائی کی دعا نہیں کرنی چاہیے، خاص کر اپنے بھائیوں کے لیے تو ہرگز نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے سکھایا ہے کہ جس نے کسی کے لیے برائی کی دعا کی، وہ برائی پہلے خود اس پر آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسلمانوں کے لیے خیر اور بھلائی کی دعا کریں، ان کی کامیابی چاہیں، اور ان کے دکھوں میں شریک ہوں۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا اور سنتا ہے۔ ہماری چھپی ہوئی نیتیں، ہمارے دل کے ارادے، سب اس پر عیاں ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے، اپنی نیتوں کو درست کرنا چاہیے، اور ہر عمل میں اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی حفاظت کرتا ہے، اور ان کے دشمنوں کی سازشیں خود انہی پر الٹ دیتا ہے۔
📜 آیت 96-100 — توبہ
ترجمہ — توبہ 98
سورہ آیت 98/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 96–100. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







