ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ناصیہ: پیشانی کے بال، جو سر کے اگلے حصے میں ہوتے ہیں۔
- کاذبہ: جھوٹ بولنے والی۔
- خاطئہ: غلطی کرنے والی، گناہ گار۔
تفسیر:
یہ آیت سورہ علق کی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ابو جہل جیسے ظالم اور سرکش شخص کا ذکر فرمایا ہے جو نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص کی پیشانی کے بال (ناصیہ) کو پکڑ کر اسے سخت سزا دی جائے گی۔ اس ناصیہ کو "کاذبہ" (جھوٹی) اور "خاطئہ" (غلطی کرنے والی) کہا گیا ہے، کیونکہ یہ پیشانی اس شخص کی ہے جو اپنے قول میں جھوٹا اور اپنے فعل میں گناہ گار ہے۔ دراصل مراد اس ناصیہ کا مالک ہے، یعنی وہ شخص جو جھوٹ بولتا ہے اور غلط کام کرتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس سرکش شخص کی پیشانی کو پکڑ کر اسے ذلیل کیا جائے گا، کیونکہ یہی پیشانی اس کے جھوٹ اور گناہوں کی علامت ہے۔
فوائد:
- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، چاہے وہ ظاہری ہوں یا پوشیدہ، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا۔
- یہ آیت مومنین کے لیے باعثِ تسلی ہے کہ ظالموں کی طاقت اور سرکشی کچھ بھی نہیں، اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کرکے رہے گا، چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔
- اس میں اس بات کی ترغیب ہے کہ انسان کو اپنے قول اور فعل دونوں میں سچا اور نیک ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جھوٹ اور گناہ کو پسند نہیں فرماتا۔
- یہ آیت نبی کریم ﷺ کے لیے ایک عظیم بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے گا اور ان کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا، لہٰذا مومنین کو بھی صبر اور استقامت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
📜 آیت 14-18 — علق
ترجمہ — علق 16
سورہ علق آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بالسورہ آیت 16/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








