ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَنَدْعُ: ہم بلائیں گے۔
- الزَّبَانِيَةَ: جہنم کے داروغے (فرشتے) جو گنہگاروں کو دھکیل کر جہنم میں ڈالنے والے ہیں۔ یہ لفظ "زَبْن" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے دھکیلنا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دے رہے ہیں اور دشمنِ اسلام ابوجہل کو سخت تنبیہ فرما رہے ہیں۔ ابوجہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے روکنے کی جسارت کی تھی، اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ ظالم اپنی شرارت اور مخالفت سے باز نہ آیا تو ہم اس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والے اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلائیں گے۔ یہ زبانیہ جہنم کے سخت گیر فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔ یہ فرشتے اس قدر طاقتور ہیں کہ ابوجہل اپنے ساتھیوں اور اپنی قوم کی مدد سے بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابوجہل اپنے ناد (مجلس والوں) کو بلا لے، ہم بھی اپنے زبانیہ فرشتوں کو بلائیں گے، پھر دیکھیں کہ کس کا غلبہ رہتا ہے۔
فوائد و اسباق:
- اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اور ان کے دشمنوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
- ظالموں کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت اور وسائل پر گھمنڈ نہ کریں، کیونکہ اللہ کی طاقت سب سے برتر ہے۔
- یہ آیت مسلمانوں کو صبر اور استقامت کا درس دیتی ہے کہ حق پر قائم رہیں، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔
- اللہ کے عذاب کے فرشتے انتہائی طاقتور ہیں اور ان کے سامنے کسی کی مجال نہیں، اس لیے انسان کو اللہ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور دفاع اللہ خود کرتا ہے، اس لیے اہل ایمان کو کسی ظالم کے ڈر سے حق بات چھپانی نہیں چاہیے۔
📜 آیت 16-19 — علق
ترجمہ — علق 18
سورہ علق آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گےسورہ آیت 18/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 16–19. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








