یوسف · 107/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
أَفَأَمِنُوا أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝١٠٧
Afa aminooo an taatiya hum ghaashiyatum min `azaabil laahi aw taatiyahumus Saa`atu baghtatanw wa hum laa yash`uroon
📖 اردو ترجمہ
کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • غَاشِیَةٌ: ڈھانپ لینے والی، ہر طرف سے گھیر لینے والی مصیبت یا عذاب۔
  • بَغْتَةً: اچانک، بغیر کسی مقدمے کے۔
  • لَا یَشْعُرُونَ: انہیں احساس نہیں ہوتا، انہیں خبر نہیں ہوتی۔

تفسیر:

ان مشرکین اور منکروں سے پوچھا جا رہا ہے: کیا وہ اس بات سے بالکل بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ کا عذاب ان پر اچانک نازل ہو جائے؟ یہ عذاب ایسا ہو کہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے، ہر طرف سے گھیر لے، اور وہ اسے ٹالنے کی کوئی طاقت نہ رکھتے ہوں؟ یا پھر قیامت ان پر اچانک آ جائے، جبکہ انہیں اس کا ذرا سا بھی احساس نہ ہو، نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر سکیں اور نہ ہی کوئی مہلت انہیں دی جائے؟

یہ سوال دراصل ان کی غفلت اور لاپروائی پر سخت تنبیہ ہے۔ وہ عذاب الٰہی سے اس طرح بے خوف ہیں جیسے انہوں نے اللہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کر رکھا ہو کہ انہیں کبھی پکڑا نہیں جائے گا۔ حالانکہ اللہ کا عذاب کبھی بھی، کسی بھی وقت، بغیر کسی انتباہ کے آ سکتا ہے۔ اور قیامت تو ایسی چیز ہے جس کا وقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ اچانک قائم ہو جائے گی جبکہ لوگ اپنی دنیاوی مشغولوں میں مصروف ہوں گے۔

یہ آیت ہر اس شخص کے لیے بیداری کا پیغام ہے جو اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو کر گناہوں پر اصرار کر رہا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری زندگی کا اگلا لمحہ ہمارے اختیار میں نہیں؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ موت اور قیامت کا کوئی مقررہ وقت ہمارے علم میں نہیں؟ یہی غفلت انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے اور وہ آخرت کو بھول کر صرف دنیا کی خوشیوں میں مگن ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ بار بار انہیں ڈراتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی سنوار لیں، توبہ کر لیں، اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ یہ ڈرانا دراصل رحمت ہے، کیونکہ اگر وہ ہم پر عذاب نازل کرنا چاہتا تو بغیر کسی تنبیہ کے کر سکتا تھا۔ لیکن وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف لوٹ آئیں، اس کی رحمت سے نوازے جائیں، اور جنت کی ابدی نعمتوں سے مالامال ہوں۔ آئیے ہم اس تنبیہ کو غنیمت جانیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس کی خوشنودی حاصل کریں۔



📜 آیت 105-109 — یوسف

105وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں
106وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں
107أَفَأَمِنُوا أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
108قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
109وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوْا ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
107آیت

ترجمہ — یوسف 107

سورہ یوسف آیت 107 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر…

سورہ آیت 107/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 105–109. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں