یوسف · 44/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ ۝٤٤
Qaalooo adghaasu ahlaa minw wa maa nahnu bitaaweelil ahlaami bi`aalimeen
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ: خوابوں کے الجھے ہوئے، بے ترتیب اور خوشگوار یا پریشان کن مخلوط مناظر۔ "ضِغْث" کا مطلب ہے گھاس کا مٹھا یا بھرا ہوا گٹھا جس میں مختلف چیزیں ملی ہوں۔
  • تَأْوِيلِ: تعبیر، تشریح، حقیقت تک پہنچنے کا راستہ۔
  • بِعَالِمِينَ: جاننے والے، علم رکھنے والے۔

تفسیر:

جب بادشاہِ مصر نے اپنا خواب (جو سات موٹی گائیوں کا سات دبلی گائیوں کو کھا جانا اور سات سبز بالیوں کا سات خشک بالیوں پر غالب آنا تھا) درباریوں اور معززین کے سامنے بیان کیا، تو انہوں نے جواب دیا: "یہ خواب تو الجھے ہوئے اور بے ترتیب خیالات کا مجموعہ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایسے خوابوں کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی، اور ہم ایسے بے ترتیب خوابوں کی تعبیر جاننے والے نہیں ہیں۔"

یہ جواب دراصل ان کی معذوری اور عجز کا اظہار تھا، کیونکہ وہ خواب کی تعبیر کا علم نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے خواب کو محض "اَضْغاثُ اَحْلام" یعنی بے حقیقت اور مخلوط خواب قرار دے کر اسے نظر انداز کر دیا، حالانکہ یہ خواب دراصل ایک اہم پیشین گوئی تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ ان کا یہ کہنا کہ "ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے" دراصل ان کی علمی کمزوری کا اعتراف تھا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ سچائی تک پہنچنے سے قاصر تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ علمِ الٰہی اور اس کی حکمتوں کا احاطہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے علم اور سمجھ عطا فرماتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ نے خوابوں کی تعبیر کا خاص علم عطا کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اس مشکل کا حل نکال سکے۔ یہ ہمارے لیے ایک دعوت ہے کہ ہم اللہ سے علمِ نافع کی دعا کریں، اور جب کسی مشکل کا سامنا ہو تو اہلِ علم اور صاحبانِ بصیرت سے رجوع کریں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کی استطاعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، اور ہر مشکل کے بعد آسانی کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کمزوریوں کا اعتراف کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی ہر مشکل کا حل جاننے والا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 42-46 — یوسف

42وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
43وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ ۖ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِن كُنتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
44قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی
45وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ فَأَرْسِلُونِ
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
46يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَّعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
44آیت

ترجمہ — یوسف 44

سورہ یوسف آیت 44 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور…

سورہ آیت 44/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 42–46. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں