جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لیے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
طُوبَىٰ: خوشی، راحت، خوش حالی، یا وہ درخت جو جنت میں ہو۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "طوبیٰ" جنت کا ایک درخت ہے جس کا سایہ تمام جنت پر ہوگا، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ خوش بختی اور راحت کا نام ہے۔
مَآب: لوٹنے کی جگہ، انجام، بازگشت۔
تفسیر آیت:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی خوش بختی کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کو یکجا کیا۔ یعنی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لایا، اور پھر اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک اعمال کیے، جن میں عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرتی بھلائی کے تمام پہلو شامل ہیں۔
ایسے لوگوں کے لیے "طوبیٰ" ہے، یعنی ان کے لیے خوشی، راحت اور سکون ہے۔ یہ خوشی دنیا میں بھی ان کے دلوں کو میسر آتی ہے کیونکہ ایمان اور عمل صالح دل کو اطمینان بخشتے ہیں، اور آخرت میں تو ان کے لیے وہ نعمتیں ہیں جن کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔
پھر فرمایا: "وَحُسْنُ مَآبٍ" یعنی ان کے لیے بہترین انجام ہے، جو جنت ہے۔ جنت ان کا آخری ٹھکانہ ہوگا، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، جہاں نہ کوئی غم ہوگا، نہ تھکاوٹ، نہ خوف، نہ اندیشہ۔ یہ اللہ کی رحمت اور فضل کا نتیجہ ہے جو اس نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسان راستہ بتا دیا ہے — ایمان اور عمل صالح۔ اگر ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اپنے اعمال کو نیک بنائیں تو ہمارے لیے بھی یہی خوشی اور بہترین انجام ہے۔ دنیا کی کوئی بھی خوشی عارضی ہے، لیکن یہ خوشی دائمی ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اس راستے پر ڈھالیں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جن کے لیے "طوبیٰ" اور "حسن مآب" ہے۔ اللہ ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھے اور نیک اعمال کی توفیق دے۔ آمین۔
اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے
(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔