ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بِلِسَانِ قَوْمِهِ: اپنی قوم کی زبان میں
- لِيُبَيِّنَ لَهُمْ: تاکہ انہیں واضح طور پر سمجھا سکے
- فَيُضِلُّ: گمراہ کرتا ہے
- يَهْدِي: ہدایت دیتا ہے
- الْعَزِيزُ: غالب، زبردست
- الْحَكِيمُ: حکمت والا
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا، اسے ہمیشہ اُسی قوم کی زبان میں بھیجا جس کی طرف وہ مبعوث کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ رسول اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ کا پیغام اور شریعت کے احکام اس طرح واضح طور پر سمجھا سکے کہ ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی رسول کو کسی اجنبی زبان کے ساتھ نہیں بھیجا کہ لوگ اسے سمجھنے سے قاصر رہیں، بلکہ ہر نبی نے اپنی قوم کی مادری زبان میں گفتگو کی تاکہ پیغامِ حق ان تک پوری وضاحت کے ساتھ پہنچ جائے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ رسولوں کا کام لوگوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کرنا نہیں، بلکہ انہیں راستہ دکھانا اور حجت قائم کرنا ہے۔ اس کے بعد ہدایت اور گمراہی کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ وہ شخص حق کو سن کر بھی اسے قبول نہیں کرتا اور ضد اور تکبر پر اڑا رہتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، کیونکہ وہ شخص سچائی کو قبول کرنے کا اہل ہوتا ہے اور اللہ اسے توفیق بخشتا ہے۔
اللہ تعالیٰ عزیز ہے یعنی غالب اور زبردست، کوئی اس کی مشیت کے آگے نہیں ٹھہر سکتا، نہ کوئی اس کے فیصلے کو رد کر سکتا ہے۔ اور وہ حکیم ہے یعنی اپنے ہر فعل میں حکمت رکھتا ہے۔ وہ کسی کو محض ظلم کی وجہ سے گمراہ نہیں کرتا، بلکہ جب بندہ حق سے منہ موڑتا ہے اور باطل پر اصرار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ جسے ہدایت دیتا ہے، وہ اس کی اپنی سچائی کی طلب اور خلوص کی وجہ سے ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے اُس کی اپنی زبان میں رسول بھیجا تاکہ پیغامِ حق ہر انسان تک پہنچ سکے۔ یہ اللہ کی رحمت اور عدل کا تقاضا ہے۔ آج بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگوں تک اسلام کا پیغام ان کی سمجھ میں آنے والی زبان اور انداز میں پہنچائیں، نہ کہ ایسے طریقے سے جو لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہو۔
یاد رکھیں! ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن ہماری ذمہ داری صرف پہنچانا ہے۔ جب ہم کسی کو حق کی دعوت دیں تو مایوس نہ ہوں اگر وہ قبول نہ کرے، کیونکہ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔ ہمیں صرف اپنا فرض ادا کرنا ہے اور اللہ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ جو رحمت اور حکمت کا معاملہ کیا ہے، اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے اور اپنے رب کی عظمت اور حکمت کا اقرار کرنا چاہیے۔
📜 آیت 2-6 — ابراہیم
ترجمہ — ابراہیم 4
سورہ ابراہیم آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم…سورہ آیت 4/52 — ابراہیم إبراهيم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ابراہیم سنیں, ابراہیم ترجمہ, ابراہیم mp3, ابراہیم pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








