ترجمہ — Tafsir
الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
معانی الفاظ:
- يَسْتَحِبُّونَ: پسند کرتے ہیں، ترجیح دیتے ہیں۔
- يَصُدُّونَ: روکتے ہیں، باز رکھتے ہیں۔
- يَبْغُونَهَا عِوَجًا: اس (راہِ خدا) کے لیے کجی اور ٹیڑھ پن تلاش کرتے ہیں۔
- ضَلَالٍ بَعِيدٍ: گمراہی جو حق سے بہت دور لے جائے۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کا کردار بیان کرتی ہے جو ایمان سے محروم ہیں اور اللہ کے رسولوں کی پیروی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ان کی تین نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں:
پہلی صفت: وہ دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کی دائمی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ صرف اسی دنیا کے فانی لذتوں اور عیش و آرام میں مگن رہتے ہیں، اور آخرت کے ابدی نعیم کو بھول جاتے ہیں۔ ان کی یہ ترجیح محض عقل کی کمزوری نہیں، بلکہ دل کی اندھی ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ عقل سلیم تو یہی کہتی ہے کہ باقی رہنے والی چیز کو فانی چیز پر مقدم رکھا جائے۔
دوسری صفت: وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یعنی نہ صرف خود ایمان سے محروم رہتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی ایمان، اسلام اور نیکی کی راہ سے باز رکھتے ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال سے لوگوں کو حق کی طرف جانے سے روکتے ہیں، تاکہ لوگ بھی انہی کی طرح گمراہ رہیں۔
تیسری صفت: وہ اللہ کے راستے کو ٹیڑھا اور کج کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کے راستے کو اس کی سیدھی اور صاف صورت سے ہٹا کر اس میں کجیاں اور اعوجاج پیدا کریں، تاکہ لوگ اسے پسند نہ کریں اور اس پر چلنے سے گریز کریں۔ وہ حق کو باطل کے ساتھ ملا کر پیش کرتے ہیں اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں۔
انجام: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ گمراہی میں ہیں جو حق سے بہت دور ہے۔ یہ گمراہی اتنی گہری ہے کہ اس سے نکلنا انتہائی مشکل ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے دلوں پر مہر لگا لی ہے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہدایت کے تمام راستے بند کر لیے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھیں۔ یہ دنیا ایک آزمائش کی جگہ ہے، ایک عارضی مسافر خانہ ہے، جبکہ آخرت ہمارا اصل اور دائمی ٹھکانہ ہے۔ عقلمند وہ ہے جو اس دنیا کو آخرت کی کھیتی کے لیے استعمال کرے، نہ کہ آخرت کو دنیا کے لیے قربان کر دے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ان صفات سے پاک کریں، اور اللہ کے راستے کو سیدھا اور واضح رکھیں، نہ کہ اس میں کجی پیدا کریں۔ یاد رکھیں، جو لوگ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، وہ خود بھی گمراہ ہیں اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گمراہی میں ڈھکیل رہے ہیں۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور دوسروں کو بھی اس راہ کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 1-5 — ابراہیم
ترجمہ — ابراہیم 3
سورہ ابراہیم آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں…سورہ آیت 3/52 — ابراہیم إبراهيم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ابراہیم سنیں, ابراہیم ترجمہ, ابراہیم mp3, ابراہیم pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








