نحل · 90/128
ترجمہ تلفظ — نحل
۞ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۝٩٠
Innal laaha yaamaru bil `adli wal ihsaani wa eetaaa`i zil qurbaa wa yanhaa `anil fahshaaa`i wal munkari walbagh-i` ya`izukum la`allakum tazakkkaroon
📖 اردو ترجمہ
خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے بندوں کو تین عظیم احکام دیتا ہے اور تین برے کاموں سے منع فرماتا ہے۔ یہ آیت قرآن کریم کا وہ جامع اور مکمل دستور ہے جس میں پوری انسانی زندگی کی اصلاح کا نسخہ موجود ہے۔

پہلے اہم الفاظ کے معانی:

  • العدل: انصاف کرنا، حق دار کو اس کا حق دینا، کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرنا
  • الإحسان: بھلائی کرنا، خوبصورتی سے کام کرنا، فرائض کو مکمل ادا کرنا
  • إیتاء ذی القربی: رشتہ داروں کو ان کا حق دینا، صلہ رحمی کرنا
  • الفحشاء: بے حیائی، برے کام، زنا، گندی باتیں
  • المنکر: وہ کام جو شریعت اور عقل کے نزدیک برے ہوں، شرک اور معصیتیں
  • البغی: ظلم، زیادتی، سرکشی، لوگوں پر تعدی
  • یعظکم: نصیحت کرتا ہے، سمجھاتا ہے
  • تذکرون: نصیحت حاصل کرو، یاد رکھو

اب آیت کا مکمل تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل قائم کریں۔ عدل کا مطلب ہے کہ اللہ کے ساتھ توحید کا حق ادا کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں، اور بندوں کے ساتھ انصاف کریں، کسی کا حق نہ ماریں، کسی پر ظلم نہ کریں۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے، چاہے وہ دوست ہو یا دشمن۔

پھر اللہ تعالیٰ احسان کا حکم دیتا ہے۔ احسان عدل سے بڑھ کر ہے۔ عدل میں تو آپ وہی دیتے ہیں جو فرض ہے، لیکن احسان میں آپ اپنی طرف سے زیادہ دیتے ہیں۔ اللہ کی عبادت اس طرح کریں جیسے آپ اسے دیکھ رہے ہوں، اور اگر نہیں دیکھ سکتے تو وہ ضرور آپ کو دیکھ رہا ہے۔ لوگوں کے ساتھ بھی احسان کریں، ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ان کی مدد کریں، معاف کریں، درگزر کریں۔

تیسرا حکم رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں کو ان کا حق دو، ان کی خبرگیری کرو، ان کی مدد کرو، صلہ رحمی کرو۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ایمان کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ تین چیزوں سے منع فرماتا ہے:

پہلی چیز: الفحشاء یعنی بے حیائی اور برے کام۔ اس میں زنا، گندی باتیں، بے حیائی کے تمام کام شامل ہیں۔ یہ وہ کام ہیں جو انسان کی عزت اور معاشرے کی پاکیزگی کو تباہ کر دیتے ہیں۔

دوسری چیز: المنکر یعنی وہ تمام کام جو شریعت اور عقل کے نزدیک برے ہیں۔ اس میں شرک، معصیتیں، گناہ، اور ہر وہ کام شامل ہے جسے اللہ اور اس کا رسول ناپسند فرمائیں۔

تیسری چیز: البغی یعنی ظلم اور سرکشی۔ لوگوں پر ظلم کرنا، ان کے حقوق مارنا، ان پر تعدی کرنا، تکبر کرنا، یہ سب بغی ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "یہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو" یعنی اللہ تعالیٰ یہ سب احکام تمہاری بھلائی کے لیے دے رہا ہے۔ یہ ایک نصیحت ہے، ایک سبق ہے تاکہ تم اس پر عمل کرو اور اپنی زندگیاں سنوار لو۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت قرآن کریم کا ایک مکمل دستور ہے۔ اگر ہم اس پر عمل کریں تو ہماری زندگیاں جنت بن جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دے رہا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے روک رہا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں راستہ دکھایا۔ آئیے ہم اس آیت پر عمل کرنے کا عزم کریں، اپنے معاشرے کو عدل اور احسان کا گہوارہ بنائیں، اور اللہ کی رحمت اور برکتوں کے حقدار بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 88-92 — نحل

88الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ
جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے
89وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ
اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے
90۞ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو
91وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے
92وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
90آیت

ترجمہ — نحل 90

سورہ نحل آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں…

سورہ آیت 90/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں